کرتے وقت یہ گمان کر رہا ہوتاہے کہ میں بھلائی کر رہا ہوں حالانکہ درحقیقت اس کا مقصد منصب اور لوگوں میں مقبولیت کا حصول ہوتا ہے۔ یہ سبب اس کے لئے باعث ہلاکت ہے اور وہ گمان کررہا ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے اسے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی با رگا ہ میں مقام ومرتبہ حاصل ہوگا۔ ایسا شخص انہی لوگوں میں سے ہے جن کے متعلق سرکارِمدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اِنَّ اللّٰہَ لَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِقَوْمٍ لَاخَلَاقَ لَھُم یعنی بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ ا س دین کی مد دایسے لو گوں کے ذریعے کرتا ہے جن کا دین میں کو ئی حصہ نہیں۔“ (1)
نیز ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰہَ لَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِر یعنی بے شک اللہ عَزَّوَجَلَّ اس دین کی مدد فاجرشخص سے بھی کرتا ہے۔(2)
شیطان کے کہنے پر کلمۂ حق بھی نہ کہا:
مروی ہے کہ شیطان لعین انسانی شکل میں حضرت سیِّدُنا عیسٰیعَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آیا اور کہا:”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ“پڑھئے، آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے فرمایا:اگر چہ یہ کلمہ حق ہے لیکن میں اسے تیرے کہنے پر نہیں پڑھوں گا۔
آپ کےانکار کی وجہ یہ تھی کہ خیر کے تحت بھی اس کے بہت سے مکر و فریب ہو تے ہیں اور اس قسم کے شیطانی مکرو فریب بے شمار ہیں جن کے سبب علما، عبادت گزار، زاہدین، فقرا، اغنیا اور وہ لوگ ہلا ک ہو جاتے ہیں جو ظاہری برائی کو نا پسند کرتے ہیں اور صریح گناہ میں پڑنے کو اپنے لئے پسند نہیں کرتے۔
سیِّدُنا امام غزالیرَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کا شیطا ن کے خلاف جہاد:
عنقریب ہم شیطان کے دیگر مکرو فریب (اس جلد کے آخری باب)”ذَمُّ الْغَرُوْر(دھوکے کی مذمت کے بیان)“میں ذکر کریں گے اور اگرزمانے نے مہلت دی تو ہو سکتا ہے خا ص اس موضوع پر ”تَلْبِیْسِ اِبْلِیْس“ کے نا م سے ایک کتا ب لکھیں کیونکہ اب اس کے مکر و فریب بالخصوص مذاہب اور عقائد کے معاملے میں شہروں اور لوگوں میں پھیل گئے ہیں حتّٰی کہ نیک کام صرف رسمی طور پر باقی رہ گئے ہیں اوریہ سب کچھ شیطان کےمکرو فریب پر یقین کرلینے کے سبب ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…السنن الکبری للنسائی،کتاب السير،باب الاستعانة بالفجارفی الحرب،۵/ ۲۷۹،حديث:۸۸۸۵
2… بخاری،کتاب الجهادوالسير،باب ان الله يؤيدالدين بالرجل الفاجر،۲/ ۳۲۹،حديث:۳۰۶۲