Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
91 - 1245
ہے جو کہ مکاشفات کے علوم میں مستغرق رہتے ہیں لہٰذا علم معاملہ میں اس کی معرفت کی حاجت نہیں۔ہاں!یہ جاننا مناسب ہے کہ خواطر کی تین قسمیں ہیں:(۱)جن کے بارے میں یقینی طور پرمعلوم ہوتا ہے کہ یہ شر کی طرف بلا تےہیں، ان کے وسوسے ہونے میں کوئی پوشیدگی نہیں (۲) جوخیر کی دعوت دیتے ہیں، ان کے الہام ہو نے میں کوئی شک نہیں (۳)جن کےمتعلق تَرَدُّدہو تا ہے اور معلوم نہیں ہوتا کہ یہ فرشتے کی طرف سے ہیں یا شیطان کی طرف  سے۔
شیطان شر کو خیر کی صورت میں پیش کرتا ہے:
	شیطان کا  ایک مکروفریب  یہ بھی ہے کہ وہ خیر کی آڑ میں شر کو پیش کرتا ہے اور اس  میں فرق کرنا مشکل ہے اور اکثر لوگ اس فریب  کا شکار ہو کرہلاک ہوجا تے ہیں کیونکہ شیطان جب لو گو ں کو بظاہر شر کی طرف  بلانے پر قادر نہیں ہوتا تو شر کو خیر کی صورت میں پیش کرتا ہے۔ مثلاً عالم کو نصیحت کے پیرائے میں کہتا ہے: ”کیا تم خلْقِ خدا کی طرف نظر نہیں کرتے کہ وہ جہالت کی وجہ سے گویا مردے ہوچکے اور غفلت کے سبب ہلاکت  کے قریب اور جہنم کےکنارے پر پہنچ گئے ہیں؟کیا  تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ان بندوں پر رحم نہیں آتا کہ اپنے وعظ و نصیحت کے ذریعے انہیں ہلا کت سے بچاؤ؟اللہ عَزَّوَجَلَّ نے روشن دل ،فصیح زبان اور پسندیدہ لہجہ عطا کرکےتم پرانعام فر مایا ہے تو تم کیوں  اللہ عَزَّوَجَلَّ کی نعمت کی نا شکر ی کررہے ہوا ور اس کی ناراضی مول لے رہے ہو اور خَلْقِ خدا کو سیدھے راستے کی طرف نہ بلانے اور اشاعتِ علم نہ کرنے کا سبب آخر کون ہے؟“
	شیطان اس  کے دل میں یہ بات پختہ کرتا رہتا ہے  اور حیلے بہانوں سے اسے وعظ کی طرف مائل کرتا رہتا ہے حتی کہ وہ وعظ و نصیحت کرنے میں مشغول ہوجاتا ہے،پھرشیطان کہتا ہے:”لوگوں کی خاطر زیب وزینت اختیار کر اوربتکلف اچھے الفاظ کا استعمال اور نیکی کا اظہار کر،اگر تو نے ایسا نہ کیا تو لو گو ں کے دلوں میں تیرے کلام کی کوئی وقعت نہ رہے گی اور یوں وہ راہِ حق کی طرف ہدایت نہ پاسکیں گے۔“
	شیطا ن اسے مزید بہکاتا رہتا ہے حتّٰی کہ اس کے دل میں ریاکاری، مخلوق میں مقبولیت کی خواہش اور پیروکاروں کی کثرت، علم اور مخلوق کو اس کی نظر میں حقیر دکھا کر عزت کی طلب کو پختہ کردیتا ہے، اس طرح کی نصیحتیں کرکے بتدریج اس مسکین کو ہلاکت کے قریب کردیتا ہے، اب وہ مسکین لوگوں کو وعظ