Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
90 - 1245
 حاجت بھی نہیں بلکہ اس بارے میں غور وخوض کرنے والے کی مثال اس شخص کی طرح ہے جس کے کپڑوں میں سانپ گھس آئے اور وہ اسے نکالنے اوراس کے ضرر کو دور کرنے کےبجا ئے اس کے رنگ و شکل،لمبائی وچوڑائی کی تحقیق میں مشغول ہوجائےاور یہ نری جہالت ہے۔
شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے:
	برائی پر ابھارنے والے خواطِر کو دو رکیسے کرنا ہے وہ تم جان چکے اور اسی کے ضمن میں یہ بھی جان چکے کہ ہرخاطر کا کوئی سبب ہوتا ہے اور یہ بات ہرایک جانتا ہے کہ جو بُرائی کی طرف لے جائے وہ دشمن ہے تو لامَحالہ دشمن کا بھی معلوم ہوگیا، اب مناسب یہ ہے کہ دشمن کے خلاف جہاد میں مشغول ہوا جائے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنی مبارک کتاب میں کثیر مقامات پر شیطان کی دشمنی کی پہچان کروائی ہے تا کہ لوگ اس کے وُجود کی تصدیق کرتے ہوئے اس سے بچیں۔ چنا نچہ ارشادفرما تا ہے:
اِنَّ الشَّیۡطٰنَ لَکُمْ عَدُوٌّ فَاتَّخِذُوۡہُ عَدُوًّا ؕ اِنَّمَا یَدْعُوۡا حِزْبَہٗ لِیَکُوۡنُوۡا مِنْ اَصْحٰبِ السَّعِیۡرِ ؕ﴿۶﴾  (پ۲۲،فاطر:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک شیطان تمہارادشمن ہے توتم بھی اسے دشمن سمجھو وہ تواپنے گروہ کواسی لئے بلاتاہے کہ دوزخیوں میں ہوں۔
	مزید ارشاد فرما تا ہے:
اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیۡکُمْ یٰبَنِیۡۤ اٰدَمَ اَنۡ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیۡطٰنَ ۚ اِنَّہٗ لَکُمْ عَدُوٌّ مُّبِیۡنٌ ﴿ۙ۶۰﴾ (پ۲۳،یٰس:۶۰)
ترجمۂ کنز الایمان:اے اولادِآدم کیامیں نے تم سے عہد نہ لیاتھاکہ شیطان کونہ پوجنابے شک وہ تمہاراکھلادشمن ہے۔
خواطر کی تین قسمیں ہیں:
	بندےکو چاہئے کہ اپنے آپ سے  دشمن کو دور کرنے میں مشغول رہے نہ کہ یہ پوچھنے میں کہ اس کی اصل اور اس کا نسب کیا ہےاور یہ کہا ں رہتاہے۔ ہاں!اس کے ہتھیار کے بارے میں سوال کرنا چاہئے تاکہ  اس کو اپنے سے دور کر سکے۔ شیطان کا ہتھیا رنفسانی خواہشات ہیں اور جاننے والوں کے لئے اتنی با ت  کافی ہے، رہی اس کی ذات وصفات اور حقیقت کی معرفت اور ملائکہ کی حقیقت کی معرفت تویہ عارفین کا حصہ