نہ مانی اور اسلام لے آیا، پھر وہ اس کی گھات میں ہجرت کےرا ستے میں جا بیٹھا اور اس سے کہا: کیا تو ہجرت کرکے اپنی زمین اور فضا کو چھوڑرہا ہے؟مگرابن آدم نے شیطان کی بات پر کان نہ دھرے اور ہجرت کی، پھر شیطان ابن آدم کے انتظار میں جہا د کی راہ میں بیٹھ گیااور اس سے کہا:کیا تو جہا د کر رہا ہے حالانکہ یہ تو جان اور مال کو ضائع کرناہے، تو لڑے گاتوقتل کر دیا جائے گا،تیرے بعد لوگ تیری عورتوں سے نکاح کر لیں گےاور تیرامال تقسیم ہوجائے گا،ابن آدم نے شیطان کی یہ بات بھی نہ مانی اور جہاد کیا۔ اس کے بعدحضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:جس شخص نے ایسا کیا اورپھر اس کا انتقال ہو گیا تو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر حق ہے کہ اسے جنت میں داخل کردے۔(1)
مذکورہ حدیث مبارکہ میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے وسوسے کی حقیقت بیان فرمائی، انہی وسوسوں کو خواطر کہتے ہیں جو مجا ہد کے دل میں آتے ہیں کہ تجھے قتل کردیا جائے گا اور تیری عورتوں سے نکاح کر لیا جائے گااور اس کے علاوہ وہ خیالات جو اسے جہا د سے روکتے ہیں۔ جب ان خواطِر(یعنی وسوسوں) کا علم ہوگیا تو بار بار کے مشاہدے سے وسوسہ ڈالنے والے کا بھی معلوم ہوگیا کیونکہ ہرخاطر کا کوئی سبب ہوتا ہے اور ہم اسے پکارنے کے لئے نام کے محتاج ہیں تو ہم نے اس کے سبب کا نام شیطان رکھ دیا۔
شیطان کی مخالفت کرکے ہی اس سے بچنا ممکن ہے:
جب تک آدمی زندہ ہے اس وقت تک اس کے لئے شیطان سے چھٹکارا ممکن نہیں، البتہ اس کی مخالفت اور اتباع کرنے کے اعتبار سے لوگ مختلف ہیں۔ اسی وجہ سے حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”ہر ایک کے سا تھ ایک شیطان ہے۔“(2)
شیطان کی حقیقت جاننے کے بجائے اس سے بچاؤ والا عمل کرو:
جس نے شیطان کا مشاہدہ نہیں کیا کہ وہ لطیف جسم ہے یا جسم ہی نہیں یقیناً اس کے لئے یہ سمجھنا دشوار ہے کہ شیطان جسم رکھنے کے باوجود انسانی جسم میں کیسے داخل ہوجاتا ہے۔ لیکن اس بات کو جاننے کی اب
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن النسائی،کتاب الجهاد،باب مالمن أسلم وهاجروجاهد،ص۵۰۹،حديث:۳۱۳۱
2… مسلم،کتاب صفات المنافقين واحکامهم،باب تحريش الشيطان وبعثه…الخ،ص۱۵۱۲، حديث:۲۸۱۴