جاتا ہے اور اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کو بھول جائےتو فوراً اس کے دل پر غالب آجاتا ہے۔(1)
ابنِ وضاح کہتے ہیں:جب آدمی چالیس برس کا ہو جاتاہے اور تو بہ نہیں کرتا تو شیطان اس کے چہرے پر اپنا ہاتھ پھیرتا ہے اور کہتا ہے:اس چہرے پر قربان جاؤں جو فلاح نہیں پائے گا۔(2)
شیطان ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے:
جس طرح خواہشات ابن آدم کے گوشت وخون میں رچی بسی ہو تی ہیں اسی طرح شیطان بھی اس کے گوشت وخون میں سرایت کئے ہوئے ہےاور اس کے دل کو ا طراف سے گھیر ے ہوئے ہے۔ اسی وجہ سے حضورنبیّ پاک، صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: بے شکشیطان ابن آدم میں خون کی طرح گردش کرتا ہے(3)تو بھوک کے ذریعے اس کے راستوں کو تنگ کردو۔
کیونکہ بھوک شہوات کو ختم کردیتی ہے جوکہ شیطان کے راستے ہیں اور شہوات نے دل کو اطراف سے گھیرا ہوا ہے اسی وجہ سے اللہ عَزَّوَجَلَّ نےقرآن پاک میں ابلیس کےاس قول سے آگاہ کیا:
قَالَ فَبِمَاۤ اَغْوَیۡتَنِیۡ لَاَقْعُدَنَّ لَہُمْ صِرٰطَکَ الْمُسْتَقِیۡمَ ﴿ۙ۱۶﴾ ثُمَّ لَاٰتِیَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَیۡنِ اَیۡدِیۡہِمْ وَ مِنْ خَلْفِہِمْ وَعَنْ اَیۡمَانِہِمْ وَعَنۡ شَمَآئِلِہِمْ ؕ (پ۸،الاعراف:۱۷،۱۶)
ترجمۂ کنز الایمان:میں ضرورتیرے سیدھے راستہ پر ان کی تاک میں بیٹھوں گا۔پھر ضرور میں ان کے پاس آؤں گا ان کے آگے اور پیچھے اور داہنے اور بائیں سے۔
شیطان ابن آدم کی تاک میں مختلف راستوں میں بیٹھتا ہے:
سرکارِ والا تبار،ہم بے کسوں کے مدد گار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشاد فرمایا:بے شک شیطان ابن آدم کی تاک میں مختلف راستوں میں بیٹھا، چنانچہ وہ اس کی تاک میں اسلام کے راستے پر بیٹھا اور اس سے کہا:کیا تو مسلمان ہورہا ہے اور اپنے اور اپنے باپ دادا کے دین کو چھوڑرہا ہے؟لیکن ابنِ آدم نے اس کی بات
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…موسوعة الامام ابن ابی الدنيا،کتاب مکائدالشيطان،۴/ ۵۳۶،حديث:۲۲
2…بستان الواعظين،مجلس فی الاستعاذة،ص۲۰ بتغير
3…بخاری،کتاب الاعتکاف،باب هل يخرج المعتکف…الخ،۱/ ۶۶۸، حديث:۲۰۳۵ باختصار