طاقت وقوت سے براءت کا اظہار کرنے میں ہے اور یہ معنیٰ اس قول سے ادا ہوجاتا ہے:”اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ وَلَاحَوْلَ وَلَاقُوَّةَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگتا ہوں شیطان مردود سے اور گناہ سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی مدد سے ہے جو بلندی وعظمت والا ہے۔“
اس پر صرف متقی حضرات ہی قادر ہو سکتے ہیں کہ جن پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر غالب ہوتا ہے اگرچہ شیطان غفلت و لغزش کے اوقات میں دھوکے سے ان کے آس پاس بھی پھرتا ہے،ارشاد باری تعالیٰ ہے :
اِنَّ الَّذِیۡنَ اتَّقَوۡا اِذَا مَسَّہُمْ طٰٓئِفٌ مِّنَ الشَّیۡطٰنِ تَذَکَّرُوۡا فَاِذَا ہُمۡ مُّبْصِرُوۡنَ ﴿۲۰۱﴾ۚ (پ۹،الاعراف:۲۰۱)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک وہ جوڈروالے ہیں جب انہیں کسی شیطانی خیال کی ٹھیس لگتی ہے ہوشیارہوجاتے ہیں اسی وقت ان کی آنکھیں کھل جاتی ہیں۔
حضرت سیِّدُنااما م مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِداس آیت مبارکہ:
مِنۡ شَرِّ الْوَسْوَاسِ ۬ۙ الْخَنَّاسِ﴿۴﴾۪ۙ (پ۳۰،الناس:۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اس کے شرسے جودل میں بُرے خطرے ڈالے اوردبک رہے۔
کی تفسیر میں فرماتے ہیں:شیطان دل پر قبضہ کئے رہتاہے جب بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا ہے تو وہ دبک(یعنی پیچھے ہٹ کر چھپ)جاتا ہے اور وسوسہ ڈالنے سے رک جاتا ہے اورجب انسان غافل ہوجا تا ہے تو دوبارہ اس کے دل پرغالب آجاتا ہے۔
ذکرُاللہ اور وسو سۂ شیطان کے مابین اسی طرح دشمنی ہے جیسے نور اور تاریکی اور دن اور رات کے درمیان ہے اور چونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے مخالف ہیں اسی لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشاد فرمایا:
اِسْتَحْوَذَ عَلَیۡہِمُ الشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰىہُمْ ذِکْرَ اللہِ ؕ (پ۲۸،المجادلة:۱۹)
ترجمۂ کنز الایمان:ان پرشیطان غالب آگیاتوانہیں اللہ کی یادبُھلادی۔
جب بندہ ذکرِ الٰہی کرتا ہے تو شیطان پیچھے ہٹ جاتا ہے:
حضرت سیِّدُناانس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں کہ حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: شیطان ابنِ آدم کے دل پر اپنی سونڈ رکھے ہوئے ہو تا ہے اگر وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا ذکر کرتا ہے توپیچھے ہٹ