مستقل رہائش گاہ بن جاتا ہے۔ پھردوسرے حریف کا گزر دل کو چھیننے کی غرض سے ہوتا ہے اوراکثر دلوں کو شیطانی لشکروں نے فتح کیا ہواہےاور وہ ان کے مالک بن بیٹھے ہیں اور اب وہ اُن وسوسوں سے بھر چکے ہیں جوفانی دنیا کو باقی رہنے والی آخرت پر ترجیح دینے کا کہتے ہیں،ان شیطانی لشکروں کے غالب ہو نے کی بنیاد خواہشات کی پیروی ہے۔
شیطانی لشکروں کے غلبے سے نجات کی صورت:
اب دلوں کو فتح کرنا صرف اسی صورت میں ممکن ہے کہ دل کو شیطانی قوت یعنی نفسانی خواہشات سے خالی کرکے اسے ذکرِالٰہی سے آباد کیاجائے کہ دل فرشتوں کے اترنے کی جگہ ہے۔
حضرت سیِّدُناجابِربن عُبَیْدَہ عَدَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُناعلاء بن زِیاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادسے اپنے دل میں پیدا ہو نے والےوسوسوں کی شکا یت کی توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: ’’دل کی مثال اس گھر کی طرح ہے جس کی طرف چوروں کا گزر ہوتا ہے، اگر اس میں کچھ ہوتا ہے تو اسے لے جاتے ہیں ورنہ یوں ہی آگے بڑھ جاتے ہیں۔‘‘
مراد یہ ہے کہ خواہشات سے خالی دل میں شیطان داخل نہیں ہوتا۔ انہی کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:
اِنَّ عِبَادِیۡ لَیۡسَ لَکَ عَلَیۡہِمْ سُلْطٰنٌ ؕ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک جومیرے بندے ہیں ان پر تیراکچھ قابو نہیں۔
خواہش کے پیچھے چلنے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندہ نہیں:
معلوم ہوا کہ خواہش کے پیچھے چلنے والا ہر شخص خواہش کا بندہ ہےنہ کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کا، اسی لئے اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اس پر شیطان کوغالب کر دیا۔ ارشاد خدا وندی ہے:
اَفَرَءَیۡتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـہَہٗ ہَوٰىہُ (پ۲۵،الجاثية:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بھلادیکھوتووہ جس نے اپنی خواہش کواپنا خداٹھہرالیا۔
یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جس کا معبود اس کی خواہشات ہوں تووہ خواہش کا بندہ ہے نہ کہاللہ عَزَّوَجَلَّکا۔