Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
84 - 1245
 پناہ گاہ اور جائے اقامت بن جا ئے گا کیو نکہ خواہشا ت ہی شیطان کی چراگاہ ہیں اور اگر اس نے خواہشات سے مقابلہ کیا اور انہیں خود پر مُسَلَّط نہ ہونے دیااور فرشتوں جیسی صفات کو اپنا یا تو اس کا دل فرشتوں کےاترنے اور ٹھہرنے کی جگہ بن جائےگا۔ جب دل شہوت،غَضَب ،حرص ولالچ اور لمبی امیدوں وغیرہ سے اور خواہشات سے سیر ہونے والی صفات بشریہ سے خالی نہیں ہوگاتولازمی طورپر اس میں وسوسے کے ذریعے شیطان کی گردش ہو گی۔
ہر ایک کے سا تھ ایک شیطان ہے:
	مروی ہے کہ سرکارِمکہ مکرَّمہ،سلطانِ مدینہ مُنَوَّرہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’تم میں سے ہر ایک کے سا تھ ایک شیطان ہے۔‘‘صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:’’یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیا آپ کے سا تھ بھی ہے؟‘‘ارشادفرمایا:’’میرے سا تھ بھی مگر اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس پر میری مدد فرمائی تو وہ مسلمان ہوگیااوراب وہ صرف بھلائی کا ہی مشورہ دیتا ہے۔(1)
شیطان کو بھگانے کا نسخہ:
	شیطان چونکہ خواہشات کےذریعے ہی قبضہ جماتا ہے تو جس شخص کی خواہش کے خلاف اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کی مدد فرمائےحتی کہ خواہش وہیں پائی جائے جہاں اسے ہونا چاہئے اور مناسب حد تک ہوتو اس کی خواہش اسے شر کی طرف نہیں بلاتی اور شیطان کہ جس نے برائی کا لباس پہن رکھا ہےوہ بھی صرف بھلائی کاحکم دیتا ہے۔ جب  خواہشات کے تقاضوں کےمطابق دل پر دنیا کی یاد غالب ہوجاتی ہے تو شیطان موقع پا کر وسوسے ڈالنا شروع کر دیتا ہے  اور جب دل ذکرُاللہ میں مصروف ہو جاتا ہے تو شیطان اپنامیدان تنگ ہونے کے سبب بھا گ جاتا ہے، پھر فرشتہ آتاہے  اورخیر کا الہام کر تا ہے۔
شیطانی لشکروں کے غلبے کا سبب:
	دل پر قبضہ جمانے کی خاطر فرشتوں اورشیاطین کے لشکر وں کے مابین جنگ مسلسل جاری رہتی ہےاور یہ اس وقت ختم ہو تی ہے جب ان دونوں میں سے کوئی ایک فتح حاصل کر لیتا ہے اور دل اس کا مَسْکَن اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… مسلم،کتاب صفة القيامة والجنة والنار،باب تحريش الشيطان...الخ،ص۱۵۱۲،حديث:۲۸۱۴