Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
83 - 1245
اَلشَّیۡطٰنُ یَعِدُکُمُ الْفَقْرَ وَیَاۡمُرُکُمۡ بِالْفَحْشَآءِۚ  (پ۳،البقرة:۲۶۸)
ترجمۂ کنز الایمان:شیطان تمہیں اندیشہ دلاتا ہے محتاجی کا اور حکم دیتا ہے بے حیائی کا۔(1)
	حضرت سیِّدُناحسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:خیالات دو طرح کے ہوتے ہیں جو دل کے گرد گھومتے ہیں،ایک اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جا نب سے ہوتا ہے اور ایک شیطان کی طرف سے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس بندے پر رحم فرمائےجو خیالات پر غو ر کر ے اگروہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی طرف سے ہو تو اسے کر گزرے اور اگر شیطان کی  طرف سے ہو تو اس کی مخالفت کرے۔
	ان خیالات کا مَحْوَر ہونے کی بنا پر ہی دل کے متعلق مُعَلِّــمِ کائنات،شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ اُصبُعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰن یعنی  مومن کا دل رحمٰنعَزَّ  وَجَلَّ کی دو  انگلیوں کے درمیان ہے۔‘‘(2)
اللہ عَزَّ وَجَلَّاعضاء سے پاک ہے:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّاس بات سے پاک ہے کہ اس کی کوئی انگلی ہو جو گوشت ،ہڈی،خون اور پٹھوں سے مرکب اور پوروں میں منقسم ہو۔یہا ں انگلیوں کا ذکر اس لئےہے کہ جس طرح انسان انگلیوں سے جلدی جلدی پکڑتا اورالٹ پلٹ کرتا ہے اللہ عَزَّ وَجَلَّ بھی فرشتے اور شیطان کومُسَخَّر کر کے یہ کام جلدجلد لیتاہے۔تو یہ دونوں قدرت الٰہی کے سبب دلوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے کے لئے اسی طرح مسخر ہیں جیسے انسا نی انگلیاں  اجسا م کو الٹ پلٹ کر نے کے لئے مُسَخَّر کردی گئیں۔
دل شیطان کی پناہ گاہ ہے یافرشتوں کی قیام گاہ:
	دل اصل فطرت کے اعتبا ر سے فرشتے اور شیطان کےاثرات قبول کرنے کی برابر برابر صلاحیت رکھتا ہے، کسی ایک کو دوسرے پر تر جیح حاصل نہیں،جانبین میں سے ایک کو ترجیح صرف خواہشات میں انہماک اور ان کی پیروی یا ان سے بے رغبتی اور ان کی مخالفت کے سبب  سےحاصل ہو تی ہے،لہٰذا اگرانسان غصّےاور نفسانی  خواہشات کےتقاضوں  پر عمل کرے گا تو خواہشات کے واسطہ سے شیطان کا اثر غالب ہو جا ئے گااور دل شیطان کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن الترمذی،کتاب تفسيرالقراٰن،باب ومن سورة البقرة،۴/ ۴۶۴،حديث:۲۹۹۹
2… مسلم،کتاب القدر،باب تصريف الله تعالٰی القلوب کيف يشاء،ص۱۴۲۷،حديث:۲۶۵۴