Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
82 - 1245
 ہے جو خیر کی دعوت دیتا ہے اوراُس خاطر کے سبب کو شیطان کہتے ہیں جو شر کی طرف بلاتا ہے ،وہ لطف جس سے قلب خیر کاالہام قبول کرنے کے لئے آمادہ ہو جائےتوفیق کہلاتا ہے اور جس کے سبب وہ شیطا نی وسوسوں کو قبول کرنے کےلئے تیارہو اسے اِغوااورخِذلان کہتے ہیں کیونکہ معانی کے اختلاف سے نام بھی مختلف رکھنے کی حاجت پیش آتی ہے۔
فِرِشتہ اور شیطان کے کام کیا کیا ہیں؟
	فرشتہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پیدا کردہ وہ مخلوق ہے جس کا کام خیرپھیلانا، علم کی روشنی عام کرنا، حق کو واضح کرنا، خیر کی امید دلانااور نیکی کا حکم دینا ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے پید کیا اور اسے ان کاموں کا پابند کردیا،جبکہ  شیطان وہ مخلوق ہے جس کا کام ان سب کاموں کا الٹ کرنا ہے، یہ برائی کا وعدہ کر تا  اور بے حیائی کا حکم دیتااور بھلائی(یعنی صدقات و خیرات ) کےارادےکے وقت محتاجی کا خو ف دلاتاہے۔ پس وسو سہ الہام کی، شیطان فرشتے کی اور توفیق خِذلان کی ضد ہے،اس فرمان باری تعالیٰ میں اسی جانب اشارہ ہے:
وَ مِنۡ کُلِّ شَیۡءٍ خَلَقْنَا زَوْجَیۡنِ (پ۲۷،الذٰریٰت:۴۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اورہم نے ہرچیزکے دوجوڑبنائے۔
	کیونکہ تمام موجودات ایک دوسرے کے مقابل اور جوڑا جو ڑا ہیں سوائے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے،اس لئے کہ وہ تنہا ہے اس کا کوئی مقابل نہیں بلکہ وہ واحد ویکتا ہے،حق ہےاور تمام جوڑوں کو پیدا کرنے والا ہے۔
دل شیطان اور فرشتے کا محور ہے:
	دل شیطان اور فرشتے کا مَحْوَر ہے۔چنا نچہ مروی ہے کہ نبیوں کے سُلطان،رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:دل میں دو طرح کے خیالات آتے ہیں ایک فرشتے کی طرف سے ہوتا ہے اور وہ بھلائی کا وعدہ اور حق کی تصدیق ہے توجو اسے  پا ئےوہ جان لے کہ  یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی جا نب سے ہےاور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرےاور دو سرا دشمن(شیطان) کی طرف سے ہوتا ہےاور وہ شرکا وعدہ،حق کی تکذیب اورخیر سےروکنا ہے تو  جو اسے پا ئےوہ شیطان مردود(کے وسوسوں)سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ مانگے۔ پھر آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے یہ آیتِ مقدسہ تلاوت فرمائی: