ہوتارہتا ہے۔مقصود یہ ہے کہ دل کامسلسل بدلتے رہنا اور اثر قبو ل کرتے رہنااِن اسباب کی بنا پر ہوتا ہے۔
دل میں حاصل ہونے والے اثرات میں سب سے خاص اثر خواطر(خیالات) ہیں اور خواطر سے میری مرا ددل میں پیدا ہونے والے افکارواذکار ہیں اورافکار واذکار سےمراد دل کا نئے سرے سے یا یاد دہا نی کے طور پر علوم کا ادراک کرنا ہے اورانہیں خواطر اس اعتبار سے کہتے ہیں کہ یہ اُس وقت آتے ہیں جب دل ان سے غافل ہو جاتا ہےاور خواطر ہی ارادوں کو حرکت دیتے ہیں کیونکہ نیّت، عزم اورارادہ دل میں موجود افعال کی فکروں کے بعد ہی ہوتا ہےتوافعال کی بنیاد خواطر ہیں۔ خاطر سے رغبت کو حرکت ملتی ہے، رغبت سے عزم کو ، عزم سےنیّت کو اورنیت سے اعضاء کوتحریک ملتی ہے۔
خوا طرکی اقسام:
رغبت کو متحرک کرنے والے خوا طرکی دوقسمیں ہیں:(۱)… جو شر یعنی ان کاموں کی طرف بلاتے ہیں جوآخرت میں نقصان دہ ثابت ہوں گے(۲)…جو خیر یعنی ان کاموں کی دعوت دیتے ہیں جوآخرت میں نفع دیں گے۔
اِلہام اور وسوسہ میں فرق:
چونکہ یہ دونوں خاطر مختلف ہیں اس لئے ان کے نام الگ الگ رکھنے کی حاجت پیش آئی، تو قابل تعریف خاطر کو’’الہام‘‘کہا جاتا ہے اور قابل مذمت خاطر کو’’وسو سہ‘‘کہا جاتا ہے۔
تم جانتے ہو کہ یہ خواطرحادِث(یعنی نو پید)ہیں اور ہرحادِث کے لئے مُحْدِث(یعنی پیدا کرنے والے)کا ہونا ضروری ہے اور جب حوادِث مختلف ہیں تو یہ اس بات پر دلالت ہے کہ ان کے اسباب بھی مختلف ہوں گے،یہ وہ بات ہے جو مُسَبَّبات کو اَسباب پر مرتَّب کرنے کے سلسلے میںاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عادت مبارکہ سے معلوم ہوتی ہے(کہ جیسا سبب ہوتا ہے ویساہی اس کا مسبب ہوتا)۔چنانچہ جب آگ کی روشنی سے گھر کی دیواریں روشن ہوجائیں اور دھوئیں کے سبب چھت تاریک اورسیاہ ہوجائے تو تم جان لیتے ہو کہ سیاہی کا سبب روشنی کے سبب کے علاوہ (یعنی دھواں)ہے۔
خوا طرکےاسباب:
اسی طرح دل کے روشن اور تاریک ہونے کےبھی دو مختلف سبب ہیں ،اُس خاطر کے سبب کا نام فرشتہ