Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
80 - 1245
 طرف بھی کھلتا ہے اور یہ دروازہ مجاہدہ،تقوٰی اختیا ر کرنے اور دنیوی خواہشات سے بچنے کے سبب کھلتا ہے۔ اسی لئےامیرالمؤمنین  حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے لشکروں کے امیروں کو لکھا کہ اللہ  عَزَّ وَجَلَّ کے فرمانبرداربندوں سے جو سنو اسے محفوظ کرلو کیونکہ ان پراُمورِصادِقہ مُنکَشِف ہوتے ہیں۔
	بعض علما نے فرما یا:حکما(عقل مندوں) کے لبوں پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کادستِ قدرت ہےاور یہ حضرات صرف حق بات ہی کہتے ہیں جو کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ان کے لئے آسان کر دی ہے ۔
	ایک بزرگ فرماتےہیں :اگر میں چاہوں تو ضروریہ بات کہہ سکتا ہوں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّان حضرات کو اپنے بعض رازوں پر  مطلع فرما تاہےجن کے دل اس کے حضور جھکے ہوئے ہیں۔
چوتھی فصل:	وسوسے کا معنٰی اور دل پر غَلَبۂ شیطان کے اسباب
	جان لو!جیسا کہ ہم ذکرکر چکے ہیں  کہ دل ایک گنبد نما گاڑھے ہوئے خیمے کی طرح ہے جس کے دروازے ہیں اور ہر دروازے سے اس کی طرف اَحوال  کی آمد و رفت ہوتی ہے،دل کی مثال اس نشانے کی سی ہے جس پرمختلف اطراف سے تیر برسائے جاتے ہیں یا دل کسی جگہ نصب کئے گئے اس آئینے کی طرح ہےجس پر مختلف قسم کی صورتوں کا گزر ہوتارہتا ہےاور یکے بعد دیگرے اس میں صورتیں دکھائی دیتی رہتی ہیں اور وہ ان سے خالی نہیں ہوتا یا دل کی مثال اس حوض جیسی ہے جس میں ان نہروں سے مختلف پانی آتا رہتا ہے جن کا راستہ حوض کی طرف بنایا گیا ہے۔
خواطر سے مراد؟
	دل میں ہر وقت آنے والے نئےنئے اثرات کا داخلہ یا تو ظاہر یعنی حواسِ خمسہ سےہوتا ہے یا باطن سے جیسےخیال،خوا ہشات، غضب اورانسان کی اصْلِ خِلْقَت سے مُرکَّب اَخلاق،کیونکہ جب انسان حواس کے ذریعے کسی چیز کا ادراک کرتاہے تواس سے دل میں ایک اثر پیدا ہوتا ہےاسی طرح جب زیادہ کھانے اور مزاج میں قوت کے سبب شہوت بھڑک اٹھتی ہے تواس سےبھی دل میں ایک اثر پیدا ہوتا ہےاگر انسان وہ اثر قبول کرنے سے خود کو بچالے تو دل میں حا صل ہو نےوالےخیا لا ت باقی رہتے ہیں اور خیالات بدلتے رہتے ہیں اور جب خیالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں تو دل بھی ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف منتقل