Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
79 - 1245
	اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کِرامًا کاتِبِیْندل کے اسرار پرمطلع نہیں ہوتے بلکہ محض ظاہری اعمال پر مطلع ہوتے ہیں۔
حکایت:اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے!تم کیا کہتے ہو؟
	اللہ عَزَّوَجَلَّ کی معرفت رکھنے والےایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: میں نے ایک ابدال سے مشاہدۂ یقین کے بارے میں پوچھاتو وہ  اپنی بائیں جانب متوجہ ہوئے اور کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر رحم فرمائے! تم کیا کہتے ہو؟پھر دائیں طر ف متوجہ ہوئے اور کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے! تم کیا کہتے ہو؟پھر اپنے سینے کی طرف سر جُھکایااور کہا:اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم فرمائے!تم کیا کہتے ہو؟پھر ایک نہایت عجیب و غریب جواب دیا جسے میں نے کبھی نہیں سنا تھا۔ میں نے ان سے اس التفات کاسبب پوچھا توانہوں نے جواب دیا:میرے پاس تمہارے سوال کا جواب نہ تھا، میں نے بائیں طرف والے فرشتے سے پوچھا تو اس نے کہا:میں نہیں جانتاپھر دائیں طرف والے سے پوچھا جو کہ اس سے زیادہ علم رکھتا ہے  لیکن اس نے بھی نفی میں جواب دیا  پھر میں نے اپنے دل کی طرف نظر کی اور اس سے پوچھاتو اس نے جو کچھ بتایا وہ میں نے تمہارے گوش گزار کردیا۔
	معلوم ہوا کہ دل کو ان دونوں سے زیادہ علم ہوتا ہے اور مُصْطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان:’’اِنَّ فِیْ اُمَّتِیْ مُحَدَّثِیْنَ وَاِنَّ عُمَرَ مِنْھُم یعنی میری امت میں مُحَدَّثین ہیں(یعنی کچھ ایسے لوگ ہیں جنہیں الہام ہوتا ہے)اور عمر بھی انہیں میں سے ہے۔‘‘کے یہی حضرات مصداق ہیں۔
سایۂ رحمت میں رہنے والا:
	ایک روایت میں ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فر ماتا ہے:’’جب میں کسی بندے کے دل کو اپنی یاد میں محو پاتا ہوں تو اس کے تمام امور کو سنوا ردیتاہوں اور اس کی نشست و برخاست اور گفتگومیں میری رحمت اس کے شامل حال ہوتی اور اس کی مونس و غمخوار ہوتی ہے۔
	حضرت سیِّدُناابو سلیمان دارانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیفرماتے ہیں:دل ایک گنبد نما گاڑھے ہوئے خیمے کی طرح ہے جس کے دروازے بند ہیں  توجو دروازہ کھولا جائے اسی کے مطابق عمل کیا جاتا ہے۔
	اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ قلب کے دروازوں میں سے ایک دروازہ عالَم مَلَکُوْت اور ملاء اعلیٰ کی