بجائے اپنی اصلاح میں مشغول ہو،ایسا شخص نبی نہیں بلکہ ولی کہلا تا ہے۔
دل کے دو دروازے ہیں:
جو شخص انبیا پر ایمان رکھتااورصحیح خوابوں کی تصدیق کرتاہےاسےیقیناً اس بات کا اقرار کر ناپڑے گا کہ دل کےدودروازے ہیں،ایک باہر کی طرف ہے اور وہ حواس ہیں اور ایک دل کےاندر سے ملکوت کی طرف کھلتا ہے اور یہ الہام، اِلقا اور وحی کا دروازہ ہے۔
جب ان دونوں باتوں کا اقرارکر لیا تو اب اس کے لئے یہ ممکن نہیں کہ وہ علوم کےحصول کوسیکھنے اور تحصیل علم کے مروّج طریقوں پر منحصر کرے بلکہ ریا ضت ومجاہدہ بھی علم کے حصول کاسبب ہو سکتا ہےتو اس بیان سےہماری ذکر کردہ بات کی حقیقت پر آگاہی ہوجاتی ہے کہ دل عالَم ظاہری اور عالَم مَلَکُوْت کے درمِیان پھر تا رہتا ہے۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
تو پھر تعبیر کی محتاج مثال کے ذریعے خوا ب میں امو ر کا انکشاف کیو ں ہو تا ہے؟اور فرشتے انبیائے کرام اور اولیائے عظام عَلَیْہِمُ السَّلَامکے پاس مختلف صورتوں میں کیو ں آتے ہیں ؟
اس کا جو اب یہ ہے کہ یہ بھی عجائِبِ قَلْب کے اَسرار میں سے ہے اور یہ عِلْمِ مُکاشَفَہ کے ہی لائق اور اسی کا موضوع ہے،لہٰذااس موضوع سے متعلق جو کچھ ہم نے یہاں ذکر کیا ہے ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں کیو نکہ یہ مجاہدہ کی تر غیب اورکشف کے حصول کے لئے کافی ہے۔
حکایت:ایک صاحبِ کشف بزرگ اور کراماً کاتبین
ایک صاحِبِ کَشف بز رگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:میرے سامنے کراماً کا تبین فرشتے ظاہر ہوئےاورانہوں نے کہاکہ تو حید کے مشاہدہ سے متعلق اپنےمخفی ذکر میں سے کچھ ہمیں لکھوا دوکیونکہ ہم تمہارے(اس طرح کے) اعمال نہیں لکھتے اور ہمیں یہ پسند ہے کہ انہیں بارگاہِ الٰہی میں لے کر جائیں اور ان کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کاقُرب حاصل کریں۔میں نے پوچھا :’’کیا تم فرائض نہیں لکھتے؟‘‘انہوں نے کہا: ’’ہاں!کیوں نہیں!‘‘میں نے کہا:’’ پھر تمہیں یہی کافی ہے۔‘‘