تو میں قضائے حاجت کے لئے باہر نکلا،ایک شیر نے مجھ پر حملہ کرنا چاہا،میں واپس حضرت سیِّدُنا ابوالخیر تِیْنانِیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی طرف پلٹااورکہا:’’شیر مجھ پر حملہ آورہونا چاہتا ہے۔‘‘آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نکلےاوراسےڈانٹتے ہوئے کہا: ’’کیا میں نے تجھے نہیں کہاتھا کہ میرے مہمانوں کو تنگ نہ کرنا۔“چنانچہ شیر پیچھے ہٹ گیا،جب میں حاجت سے فراغت کے بعد واپس آیا توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:’’تم ظاہر کو درست کرنے میں مشغول ہواس لئے شیر سے ڈرگئے جبکہ ہم باطن کو درست کرنے میں مصروف ہیں اس لئے شیر ہم سے دڑتا ہے۔“
بزرگانِ دین کی مومنانہ فراست اور دلوں کے پوشیدہ خیالات کے بارے میں خبردینے کے متعلق بےشمار واقعات ہیں بلکہ ان حضرات کے بارے میں تو اس طرح کی حکایات بھی منقول ہیں کہ انہوں نے حضرت سیِّدُناخِضرعَلَیْہِ السَّلَام کی زیارت کی اوران سے سوالات کئے اور ہاتِفِ غیبی کی آوازیں سنیں اوراس کے علاوہ مختلف قسم کی کرامات منقول ہیں جنہیں شمار نہیں کیا جاسکتا۔ البتہ!منکرجب تک خو د ان کا مشاہدہ نہ کر لے اسے یہ واقعات و حکا یا ت فا ئدہ نہیں دے سکتے لیکن جو آدمی اصل کا منکر ہو وہ فرع کا بھی منکر ہوتا ہے۔ بہرحال قطعی دلیل کہ جس کے انکا ر کی کسی میں طاقت نہیں وہ دو طرح کی ہے:
(۱)…تعجب خیز سچے خواب، کیو نکہ ا ن کے ذریعے غیب سے پردہ اٹھتا ہے،جب غیبی احوال نیند میں منکشف ہو سکتے ہیں تو ان کابیداری میں منکشف ہونا بھی محال نہیں ہے کیو نکہ نیند اور بیداری کی حالت میں فرق صرف اتنا ہے کہ نیند کی حالت میں حواس ساکن ہوجاتے ہیں اورمحسوسات میں مشغول نہیں ہوتےجبکہ خیالات کے سمندر میں ڈوبے بہت سے جاگنے والے ایسے ہوتےہیں جو نہ سنتے ہیں نہ دیکھتے ہیں،اس لئے کہ وہ اپنے آپ میں مشغول ہو تے ہیں۔
(۲)…حضورنبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا غیب کی باتوں اورمستقبل میں پیش آنے والے واقعات کی خبر دیناجیسا کہ قرآ ن پاک میں موجودہے۔
جب نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم غیب کی خبر دے سکتےہیں توغیر نبی کے لئے بھی اس کا امکا ن ہے کیونکہ نبی وہ شخص ہے جس پر امورکے حقائق منکشف ہوتے ہیں اوروہ مخلوق کی اصلاح میں مشغول ہوتاہے،تو ایسے شخص کاموجودہونا بھی ممکن ہے جس پر امورکے حقائق منکشف ہوں اگرچہ وہ لوگوں کے