الْوَلِیکی خدمت میں حاضر ہواتوآپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا:’’اے احمد!بڑی آزما ئش ہے۔‘‘میں نے پوچھا:’’کیا با ت ہے؟‘‘فر مایا:میں بیٹھا ہوا تھا اچانک میرے دل میں خیال آیاکہ میں بخیل ہوں۔میں نے کہا:میں بخیل نہیں ہوں۔ تو میرے دل میں دوبارہ یہی خیال آیا کہ میں بخیل ہوں۔چنانچہ میں نے دل میں طے کر لیا کہ آج مجھے جو کچھ روزی ملے گی وہ میں اُس فقیر کو دے دوں گا جو مجھے سب سےپہلے ملے گا، میں اسی سوچ میں تھا کہ خلیفہ کا ایک غلام میرے پاس آیا،اس کے پاس50دینار تھے۔اس نے کہا:’’انہیں اپنی ضروریات پر خرچ کرلیجئے!‘‘میں اٹھا اوران دینا روں کو لے کر باہر نکل گیا،میری نظر ایک نابینافقیر پر پڑی جو حجام سے سرمنڈوارہاتھا،میں اس کی طرف بڑھااور دینار اسے تھمادیئے۔اس نے کہا:’’انہیں حجام کو دے دو۔‘‘ میں نے کہا:’’اس میں اتنے اتنے دینار ہیں۔‘‘فقیر نے کہا :’’کیا ہم نے تم سےنہیں کہا تھا کہ تم بخیل ہو؟‘‘چنانچہ میں نے وہ دینار حجام کودے دئیے۔حجام نے کہا:’’جب یہ فقیرمیرے پاس بیٹھاتھاتومیں نے عہد کر لیا تھا کہ ان سے اجرت نہیں لوں گا۔‘‘حضرت سیِّدُنا شیخ ابوبکر شِبْلِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی فر ماتے ہیں:میں نے وہ دینا ردریائے دجلہ میں پھینک دیئے اورکہا:”جس نے بھی تیری عزت کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اسے ذلت ہی دی ہے۔“
حکایت:صاحبِ کرامت بزرگ
حضرت سیِّدُناحمزہ بن عبداللہعَلَوِی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیبیان کرتے ہیں:میں حضرت سیِّدُنا ابوالخیرتِیْنا نِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے یہ عہد کیا تھا کہ سلام دعاکرکے واپس آجاؤں گا اوران کے گھر کھانا نہیں کھاؤں گا،جب میں با ہر نکلااور چند قدم چلاتوآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکھانے کا تھال لئے میرے پاس تشریف لائے اورفرمایا:’’اے نوجوان!یہ کھا لو،تمہارے وعدے کی ساعت گزرچکی۔‘‘حضرت سیِّدُنا ابو الخیر تینانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی کرامات مشہور تھیں۔
حکایت: شیر ہم سے دڑتا ہے
حضرت سیِّدُنا ابراہیم رُقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِی بیان کرتے ہیں:میں نے حضرت سیِّدُنا ابو الخیر تِیْنانِی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِی کی خدمت میں جاکر سلام عرض کرنے کا ارادہ کیا۔چنا نچہ میں مغرب کی نماز میں حاضر ہوا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے سورۂ فاتحہ بھی ٹھیک نہیں پڑھی جارہی تھی۔میں نے دل میں کہا:’’میرا سفر ضائع ہوگیا۔‘‘جب آپ نے سلام پھیرا