Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
75 - 1245
 کی: ’’کیا پیارے مُصْطفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد بھی وحی کا سلسلہ جاری ہے؟‘‘توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’نہیں!بلکہ یہ  بصیرت، برہان اور سچی فراست ہے۔‘‘
حکایت:دل میں آنے والے خیال کو جان لیا
	حضرت سیِّدُناابوسعید خراز عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار بیان کرتے ہیں:میں نے  مسجدِحرام میں پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایک فقیر کو دیکھ کر دل میں کہا:’’یہ اور اس جیسےدیگر لوگ بنی نوع انسان پربوجھ ہیں۔‘‘اتنے میں اس فقیر نے مجھے آواز دے کر یہ آیتِ مقدسہ  پڑھی:
وَاعْلَمُوۡۤا اَنَّ اللہَ یَعْلَمُ مَا فِیۡۤ اَنۡفُسِکُمْ فَاحْذَرُوۡہُۚ (پ۲،البقرة:۲۳۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجان لوکہ اللہ تمہارے دل کی جانتا ہے تو اس سے ڈرو۔
	میں نے دل ہی دل میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تو بہ کی،اس نے پھر  مجھے پکارتے ہوئے یہ آیتِ مبارکہ پڑھی:
وَ ہُوَ الَّذِیۡ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ (پ۲۵،الشورٰی:۲۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اوروہی ہے جواپنے بندوں کی توبہ قبول فرماتا (ہے)۔
	پھر وہ میری نظروں سے غائب ہوگیا اوردوبا رہ  مجھےنظر نہ آیا۔
حکایت:اللہ عَزَّ وَجَلَّکی پوشیدہ لطف وعنایات
	حضرت سیِّدُنازکریابن داؤدرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ بیان کرتے ہیں:حضرت سیِّدُناابوالعباس احمدبن مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہحضرت سیِّدُنا ابو الفضل ہاشمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِیکی عیادت کے لئے گئے،حضرت سیِّدُناابوالفضل ہاشمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَلِیعیال دار تھےاوران کے گزراوقات کا بظاہر کوئی سبب معلوم نہ تھا،حضرت سیِّدُنا ابوالعباس احمدبن مسروق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جب میں اٹھا تو میں نے دل میں سوچا  کہ’’ یہ شخص کہاں سے کھا تا ہوگا؟‘‘اتنے میں انہوں نے بلند آواز سےفرمایا:”اے ابوالعباس!اس گھٹیا خیال کو دل میں جگہ نہ دو کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پو شیدہ لُطْف و عِنا یات بھی ہوتی ہیں۔“
حکایت:تم بخیل ہو
	حضرت سیِّدُنااَحمدنَقِیب عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللہِ الرَّ قِیْب بیان کرتے ہیں:میں حضرت سیِّدُنا شیخ ابو بکرشبلی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ