Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
74 - 1245
تجربات:
	جہاں تک تجربات کے ذریعے اس علم لدنی کے مشاہدے کا تعلق ہےتو انہیں بھی شمار نہیں کیا جاسکتا اور اس علم لدنی کا ظہورصحابہ ،تابعین اور ان کے بعد کے حضرات پرہوا ۔چنانچہ،
سیِّدُنا صدیق اَکبررَضِیَ اللہُ عَنْہکی کرامت:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے وِصال کے وقت اپنی صاحب زادی ام المؤمنین حضر ت سیِّدَتُناعائشہ صدیقہ طیبہ طاہرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے فرمایا:تمہارے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ محترمہ اس وقت حاملہ تھیں۔چنانچہ،ان کے ہاں بیٹی کی ولادت ہوئی تو حضرت سیِّدُناابو بکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ولادت سے پہلے ہی جان لیا تھاکہ بیٹی پیدا ہوگی۔
سیِّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ  عَنْہکی کرامت:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعمر فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دورانِ خطبہ فرمایا: يَاسَارِيَةُ الْجَبَل یعنی اے ساریہ!پہاڑ کی طرف چلےجاؤ۔‘‘
	کیونکہ آ      پ پر  یہ منکشف ہوچکا تھا کہ  دشمن پہاڑ کی جانب سے ان پر حملہ کرنے والاہےتو اپنی اس معرفت کی بنیاد پر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے انہیں خبر دا ر کیا،پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی آواز کاان تک پہنچناعظیم کرامات میں سے ہے۔
حکایت:مومنانہ بصیرت اور سچی فراست
	حضرت سیِّدُنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیا ن کرتے ہیں:میں خلیفۂ سوم امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں جارہا تھا کہ راستے میں مجھے ایک عورت ملی،میں نے ترچھی نظر سےبڑے اِنْہِماک کے ساتھ اسے دیکھا۔جب میں امیرالمؤمنین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے فرمایا:’’تم میں سے کوئی میرے پاس  اس حالت  میں آتا ہے کہ  زنا کا اثر اس کی آنکھوں میں ظاہر ہوتا ہے، کیا تم نہیں جانتے کہ آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے؟تو بہ کرو ورنہ میں تمہیں  سزادوں گا۔‘‘میں نے عرض