ہدایت اور کَشْف کی چابی:
قرآن پاک میں اس بات کی صراحت ہے کہ تقوٰی ہدایت وکشف کی چابی ہے اور یہ بغیر سیکھے حاصل ہوتا ہے۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرما تا ہے:
وَمَا خَلَقَ اللہُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضِ لَاٰیٰتٍ لِّقَوْمٍ یَّتَّقُوۡنَ ﴿۶﴾ (پ۱۱،یونس:۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجوکچھ اللہ نے آسمانوں اورزمین میں پیداکیاان میں نشانیاں ہیں ڈروالوں کے لیے۔
توان نشانیوں کو متقین کے ساتھ خاص کیا۔
ارشادباری تعالیٰ ہے:
ہٰذَا بَیَانٌ لِّلنَّاسِ وَہُدًی وَّمَوْعِظَۃٌ لِّلْمُتَّقِیۡنَ﴿۱۳۸﴾ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۳۸)
ترجمۂ کنزالایمان:یہ لوگوں کوبتانااورراہ دکھانااورپرہیزگاروں کونصیحت ہے۔
علم رَبّانی:
حضرت سیِّدُنا ابو یز یدبسطامی وغیرہ بزرگان دینرَحِمَہُمُ اللہُ الْمُبِیْن فرماتے ہیں:عالِم وہ نہیں جو کتاب سےیاد کرلےاور جب یاد کیا ہوا بھول جائے تو جاہل ہو جائےبلکہ عالم تو وہ ہےجو درس وحفظ کے بغیر ہی جب چاہتا ہے اپنے رب سے علم حاصل کرلیتا ہے۔
یہی علم ربّانی ہےاوراس فرمان باری تعالیٰ میں اسی طرف اشارہ ہے:
وَعَلَّمْنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّا عِلْمًا ﴿۶۵﴾ (پ۱۵،الکہف:۶۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراسے اپناعلم لدنی عطاکیا۔
عِلمِ لَدُنِّی کی تعریف:
یوں تو ہر علم رب عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سےملتا ہےلیکن بعض علوم مخلوق کے سکھانے سےحا صل ہوتے ہیں توایسے علم کو علم لدنی نہیں کہتے بلکہ علم لدنی تو وہ ہوتا ہے جس کاظہور کسی خارجی معروف سبب کے بغیر ہی قلب پر ہوجاتاہے۔
یہ نقلی دلائل تھےاور اگر اس بارے میں وارد تمام آیات و احادیث اورآثار جمع کئے جائیں تو بے شمار ہوجائیں۔