Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
72 - 1245
﴿1﴾…
اِنَّ فِیۡ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِیۡنَ ﴿۷۵﴾ (پ۱۴،الحجر:۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک اس میں نشانیاں ہیں فراست والوں کے لیے۔
﴿2﴾…
قَدْ بَیَّنَّا الۡاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یُّوۡقِنُوۡنَ﴿۱۱۸﴾ (پ۱،البقرة:۱۱۸)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک ہم نے نشانیاں کھول دیں یقین والوں کے لیے۔
علم باطن ہی علم نافع ہے:
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی سے مروی ہے کہ مُصْطفٰے جانِ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفر ما یا:’’اَلْعِلْمُ عِلْمَانِ فَعِلْمٌ بَاطِنٌ فِی الْقَلْبِ فَذٰلِکَ ھُوَ الْعِلْمُ النَّافِع یعنی علم کی دوقسمیں ہیں،باطنی علم دل میں ہوتا ہے  اوریہی علم نافع ہے۔‘‘(1)
	کسی عالم سے علم  باطن کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا:’’یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رازوں میں سے ایک راز ہےجسے اللہ عَزَّ وَجَلَّ اپنے محبوب بندوں کےدلوں میں ڈالتا ہے اور اس پر کسی فر شتے اور بشر کو مطلع نہیں کرتا۔
	حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:’’بے شک میری امت میں کچھ لوگ مُحَدَّثِیْن، مُعَلَّمِیْن اور مُکَلَّمِیْن(یعنی صاحب کشف والہام اور توفیق یافتہ)ہیں اورعمر کا شمار بھی ان ہی میں ہوتا ہے۔‘‘(2)
	حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عبا سرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی قراء ت میں سورۂ حج کی آیت نمبر52 اس طرح ہے: وَمَاۤ اَرْسَلْنَامِنۡ قَبْلِکَ مِنۡ رَّسُوۡلٍ وَّلَا نَبِیٍّ وَّلَامُحَدَّثترجمہ:اور ہم نے تم سے پہلے جتنے رسول یا نبی یامُحَدَّث بھیجے (یعنی آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی قراءت میں لفظ’’مُحَدَّث‘‘  کا اضافہ ہے)۔
	”مُحَدَّث“سے مراد”مُلْہَم“ہے اورمُلْہَموہ شخص ہے جس کے دل پر داخلی جہت سے کوئی بات منکشف ہو نہ کہ خارجی محسوسات کی جہت سے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…الزهدلابن مبارک،باب فضل ذکرالله،ص۴۰۷،حديث:۱۱۶۱ بتغیرقلیل
2… بخاری،کتاب احاديث الانبياء،۲/ ۴۶۶،حديث:۳۴۶۹ ،دون ’’معلمین ومکلمین‘‘