Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
71 - 1245
فَفَہَّمْنٰہَا سُلَیۡمٰنَ ۚ (پ۱۷،الانبیآء:۷۹)
ترجمۂ کنز الایمان:ہم نے وہ معاملہ سلیمان کو سمجھادیا۔
	تو آپعَلَیْہِ السَّلَام پر جو کَشْف ہو ا اسے فہم سے تعبیر کیا گیا۔(1)
مومناللہ عَزَّوَجَلَّکے نُور سے دیکھتا ہے:
	حضرت سیِّدُنا ابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں : مومن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے نور کی مددسے باریک پردے کے پیچھے(غیب کو)دیکھ لیتا  ہے۔بخدا!جو بات اللہ عَزَّ وَجَلَّ ان کے دلوں میں ڈالتا اور زبانوں پر جاری فر ما تا ہے وہ ضرورحق ہے۔
	ایک بزرگ فرماتے ہیں:مومن کا گمان کہانت ہے (یعنی مومن کا گمان دُرُست واقع ہونے میں گویا جادو ہے)۔
	حضورنبیِّ اکرم،نُورِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفر مایا:’’اِتَّقُوْا فِرَاسَةَ الْمُؤْمِنِ فَاِنَّہٗ یَنْظُرُ بِنُوْرِاللّٰہِ تَعَا لٰی یعنی مومن کی فراست سےڈرو اس لئے کہ وہاللہ عَزَّ وَجَلَّکے نُور سے دیکھتا ہے۔‘‘ (2)
	قرآن پاک کی درج ذیل دو آیتوں میں اسی جانب اشارہ ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…معاملہ کی تفصیل:اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے: وَ دَاوٗدَ وَسُلَیۡمٰنَ اِذْ یَحْکُمٰنِ فِی الْحَرْثِ اِذْ نَفَشَتْ فِیۡہِ غَنَمُ الْقَوْمِۚ (پ۱۷، الانبیآء:۷۸)ترجمۂ کنزالایمان:’’اورداؤداورسلیمان کویاد کرو جب کھیتی کا ایک جھگڑا چُکاتے(فیصلہ کرتے) تھے جب رات کو اس میں کچھ لوگوں کی بکریاں چھوٹیں۔‘‘اس معاملہ کی تفصیل خزائن العرفان میں یوں بیان  کی گئی ہے:یہ مقدمہ حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے پیش ہوا  آپ نے تجویز کی کہ بکریاں کھیتی والے کو دے دی جائیں ، بکریوں کی قیمت کھیتی کے نقصان کے برابر تھی۔حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَام کے سامنے جب یہ معاملہ پیش ہوا تو آپ نے فرمایا کہ فریقین کے لئے اس سے زیادہ آسانی کی شکل بھی ہو سکتی ہے،اس وقت حضرت کی عمر شریف گیارہ سال کی تھی ، حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام نے آپ پر لازم کیا کہ وہ صورت بیا ن فرمائیں، حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامنے یہ تجویز پیش کی کہ بکری والا کاشت کرے اور جب تک کھیتی اس حالت کو پہنچے جس حالت میں بکریوں نے کھائی ہے اس وقت تک کھیتی والا بکریوں کے دودھ وغیرہ سے نفع اٹھائے اور کھیتی اس حالت پر پہنچ جانے کے بعد کھیتی والے کو کھیتی دے دی جائے، بکری والے کو اس کی بکریاں واپس کر دی جاویں۔ یہ تجویز حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلَامنے پسند فرمائی، اس معاملہ میں یہ دونوں حکم اجتہادی تھے اور اس شریعت کے مطابق تھے، ہماری شریعت میں حکم یہ ہے کہ اگر چَرانے والا ساتھ نہ ہو تو جانور جو نقصانات کرے اس کا ضمان لازم نہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ حضرت داؤدعَلَیْہِ السَّلَام نے جو فیصلہ کیا تھا وہ اس مسئلہ کا حکم تھا اور حضرت سلیمانعَلَیْہِ السَّلَامنے جو تجویز فرمائی یہ صورتِ صلح تھی۔
2…سنن الترمذی،کتاب التفسير،باب ومن سورة الحجر،۵/ ۸۸،حديث:۳۱۳۸