اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فر ماتا ہے:
وَ مَنۡ یَّـتَّقِ اللہَ یَجْعَلْ لَّہٗ مَخْرَجًا ۙ﴿۲﴾ (پ۲۸،الطلاق:۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اورجواللہ سے ڈرے اللہاس کے لئے نجات کی راہ نکال دے گا۔
یعنی وہ خیالات کی الجھنوں اور شکوک و شبہات سے نکل جائے گا۔
وَّ یَرْزُقْہُ مِنْ حَیۡثُ لَا یَحْتَسِبُ ؕ (پ۲۸،الطلاق:۳)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراسے وہاں سے روزی دے گاجہاں اس کا گمان نہ ہو۔
یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ اسے بغیر سیکھےعلم اور بغیر تجربے کےسمجھداری عطا فرماتا ہے۔
ارشادباری تعا لیٰ ہے:
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِنۡ تَتَّقُوا اللہَ یَجْعَلۡ لَّکُمْ فُرْقَانًا (پ۹،الانفال:۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:اے ایمان والواگراللہ سے ڈروگے تو تمہیں وہ دے گاجس سے حق کو باطل سے جداکرلو۔
اس آیتِ مقدسہ کی تفسیرمیں ایک قول ہے کہ وہ تمہیں نور عطا فرمائے گا جس کے سبب حق وباطل میں امتیاز کیا جاسکتا ہے اور شکُوک و شُبَہات کے اندھیروں سے نکلا جاسکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ حضورنبیّ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمدعا میں نورکے سوال کی کثرت فرماتے۔چنانچہ،
نور کی دعا:
مروی ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اکثریہ دعا فرماتے:” اَللّٰهُمَّ اَعْطِنِیْ نُوْرًا وَّزِدْنِیْ نُوْرًا وَّاجْعَلْ لِّیْ فِیْ قَلْبِیْ نُوْرًا وَّفِیْ قَبْرِیْ نُوْرًا وَّفِیْ سَمْعِیْ نُوْرًا وَّفِیْ بَصَرِیْ نُوْرًا یعنی اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے نور عطا فرما اوراس میں اضافہ فرما،میرے دل میں،میری قبر میں،میرے کانوں میں،میری آنکھوں میں نور پیدا فر ما۔“ حتّٰی کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنے بال،جلد،گوشت ،خون اورہڈیوں کے لئےبھی نو رکی دعا فرمائی۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الدعوات،باب الدعااذاانتبه بالليل،۴/ ۱۹۳،حديث:۶۳۱۶ بتغير
تاريخ مدينه دمشق،الرقم:۲۰۵۲،داودبن علی بن عبدالله،۱۷/ ۱۶۲،دون ذکر’’قلبی‘‘