Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
68 - 1245
تیسری فصل:	بغیر سیکھے معرفت حاصل کرنے میں صوفیا کا
طریقہ درست ہونے پر شرعی دلائل
	جس کے سامنے بطریق الہام کو ئی چیز منکشف ہو اگر چہ تھوڑی ہو اوراسے معلوم نہ ہو کہ یہ دل میں کیسے آئی اور اس  کا سبب کیا ہےتو راستہ دُرُست ہونے کے سبَب وہ عارِف ہی کہلائے گا اور جو اپنے اندر اس کیفیت  کو نہ پاسکے اسے بھی دل سے  اس کی تصدیق کرنی چاہئے کیونکہ انسا ن میں  معرفت کا درجہ کمیاب ہےاور اس پر شرعی دلائل ، تجربات اور حکایات بھی گواہ ہیں۔
شرعی دلائل:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فر ماتا ہے:
وَالَّذِیۡنَ جَاہَدُوۡا فِیۡنَا لَنَہۡدِیَنَّہُمْ سُبُلَنَا ؕ (پ۲۱،العنکبوت:۶۹)	    ترجمۂ کنز الایمان:اورجنہوں نے ہماری راہ میں کوشش کی ضرورہم انہیں اپنے راستے دکھادیں گے۔
	توبغیرعلم سیکھے عبادت پر ہمیشگی کے سبب دل سے جو بھی حکمت کی بات ظاہر ہو تی ہے وہ بطریق  کَشْف واِلہام ہوتی ہے۔چنانچہ،
علم پرعمل کرنے کی فضیلت:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّکے پیارے حبیب،حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فر مایا:”جوشخص اپنے علم پر عمل کرتاہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے ان چیزوں کا علم بھی عطا فرمادیتا ہے جنہیں وہ نہیں جانتا۔“(1)
علم پرعمل نہ کرنے کا نقصان:
	ایک روایت میں ہے:’’اور اسے عمل کی تو فیق عطا فر ما تا ہے حتّٰی کہ وہ جنت کا مستحق ہو جاتا ہے اور جو اپنے علم پرعمل نہیں کرتاوہ تکبر میں مبتلا ہوجاتاہےاور اسےعمل کی تو فیق نہیں دی جاتی حتّٰی کہ  وہ جہنم کا مستحق ہوجاتا ہے۔‘‘
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…حلية الاولياء،احمدبن ابی الحواری،۱۰/ ۱۲،حدیث:۱۴۲۰