اللہ عَزَّ وَجَلَّعالم کو مومن کے مقابلے میں 700 درجے بلندی عطا فرمائےگااورہر دو درجوں کے درمیان زمین و آسمان کے درمیان جتنا فاصلہ ہوگا۔
اکثراہل جنت بھولے بھالے لوگ ہوں گے:
حُضُورنبیّ پاک،صاحِبِ لولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:”اَکْثَرُ اَھْلِ الْجَنَّةِ الْبُلْہُ وَعِلِّیُّوْنَ لِذَوِی الْاَلْبَاب یعنی اکثراہل جنت بھو لے بھالے ہوں گے اورعلیون(جنت کا اعلیٰ مقام)عقل والوں کے لئے ہے۔“(1)
عالِم کا مقام و مرتبہ:
حضورنبیِّ اکرم،نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:’’فَضْلُ الْعَالِمِ عَلَی الْعَابِدِ کَفَضْلِیْ عَلٰی اَدْنٰی رَجُلٍ مِّنْ اَصْحَابِی یعنی عالم کی فضیلت عابد پر ایسی ہے جیسے میری فضیلت میرےادنیٰ صحابی پر۔‘‘(2)ایک روایت میں ہے:’’کَفَضْلِ الْقَمَرِلَیْلَةَ الْبَدْرِ عَلٰی سَائِرِالْکَوَاکِب یعنی جیسے چودھویں کے چاند کی فضیلت تمام ستاروں پر۔‘‘(3)
ان دلائل سے تمہارے سامنے یہ بات واضح ہوگئی ہوگی کہ اہلِ جنت کے درجات کا یہ فرق ان کے قلوب ومعا ر ف کے تفاوت کی وجہ سے ہےاوراسی وجہ سے قیامت کے دن کو خسا رے کا دن کہتے ہیں۔
رحمت الٰہی سے محرومی بہت بڑا خسا رہ ہے:
یقیناً رحمَتِ الٰہی سے محرومی بہت بڑا خسا رہ ہےاور کل قیامت میں جس کا درجہ کم ہوگا وہ اپنے درجے سے اوپر کئی درجات دیکھے گا تو اس کا ان کی طرف دیکھنا ایسےہی ہوگا جیسے 10درہم کے مالک کا اس شخص کو دیکھنا جو مشرق سے مغرب تک زمین کا مالک ہے حالانکہ مالدار دونوں ہیں مگر دونوں کےدرمیان فرق بہت زیادہ ہے۔ تو جس کا حصہ کم ہوگاوہ شخص کس قدر خسارے میں ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
وَ لَلۡاٰخِرَۃُ اَکْبَرُ دَرَجٰتٍ وَّ اَکْبَرُ تَفْضِیۡلًا ﴿۲۱﴾ (پ۱۵،بنی اسرآئیل:۲۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور بےشک آخرت درجوں میں سب سے بڑی اورفضل میں سب سے اعلیٰ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…البحرالمديد،پ۳۰،سورة المطففين،۸/ ۴۰۲…قوت القلوب،الفصل الثامن والعشرون،کتاب مراقبة المقربين…الخ،۱/ ۱۸۸
2… سنن الترمذی،کتاب العلم،باب ماجاء فی فضل الفقه علی العبادة،۴/ ۳۱۴،حديث:۲۶۹۴ بتغیرقلیل
3…سنن ابی داود،کتاب العلم،باب الحث علی طلب العلم،۳/ ۴۴۴،حديث:۳۶۴۱