Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
66 - 1245
 جس شخص کا ایمان مثقال سے زیادہ ہوگا وہ جہنم میں داخلے سے محفوظ رہے گا کیونکہ اگر وہ بھی داخل ہوتا تو حدیث میں ابتداءً اس کا ذکر کیا جاتا۔ نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ جس کے دل میں ذرّہ برابر ایمان ہو وہ اگر جہنم میں داخل ہو بھی جائے تو ہمیشہ اس میں نہیں رہے گا۔
	ایک روایت میں ہے کہ حضورنبیّ پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’لَیْسَ شَیْ ءٌخَیْرًا مِّنْ اَلْفِ مِثْلِہٖ اِلَّا الْاِنْسَانُ الْمُؤْمِن یعنی مومن کے علاوہ کوئی شے ایسی نہیں جو اپنی مثل ہزار اشیاء سے بہتر ہو۔‘‘(1)
	اس حدیث شریف میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والے اور کامل یقین رکھنے والے شخص کے دل کی فضیلت کی طرف اشارہ ہے کیو نکہ اس کا دل عوام کے ہزار دلوں سے افضل ہے۔
	نیز اللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے:
وَاَنۡتُمُ الۡاَعْلَوْنَ اِنۡ کُنۡتُمۡ مُّؤْمِنِیۡنَ﴿۱۳۹﴾ (پ۴،اٰل عمرٰن:۱۳۹)	ترجمۂ کنز الایمان:تمہیں  غالب آؤ گے اگر ایمان رکھتے ہو۔
	اس آیتِ مبارکہ میں مومنین کی مسلمانوں پر فضیلت بیان کی گئی ہے اور یہاں  مومن سے عارِف (اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کی معرفت رکھنے والاشخص) مرادہے مُقَلِّد(یعنی غیرعارف)مراد نہیں(کہ اس کے دل میں معرفَتِ الٰہی پختہ نہیں ہوتی)۔
700درجے بلندی:
	اللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرما تا ہے: 
یَرْفَعِ اللہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمْ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ ؕ (پ۲۸،المجادلة:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا۔
	یہاں ایمان والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے(تقلید کرتے  ہوئے)بغیر علم کےتصدیق کی اور انہیں علم والوں سے علیحدہ ذکر کرنے میں اس بات پر دلالت ہے کہ لفظ’’مومن‘‘مقلد پر بھی بولا جاتا ہے اگر چہ اس کی تصدیق بصیرت اور کَشْف کی بنیاد پر نہیں ہوتی۔
	حضرت سیِّدُناعبداللہ بن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے” وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ “کی تفسیرمیں فرمایا:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المسندللامام احمدبن حنبل،مسندعبدالله بن عمر،۲/ ۴۴۱،حديث:۵۸۸۸بتغیر