طرح تو کوئی تپتے میدان میں دوڑتے گھوڑے کی طرح گزرے گا اور جسے پاؤں کے انگوٹھے پر نور عطا کیا گیا ہوگا وہ اپنا چہرہ اور ہاتھ پاؤں گھسیٹتا ہوا اس طرح پل صراط سے گزرے گا کہ ایک ہاتھ گھسیٹے گا تو دوسرا لٹک جائے گا اور اس کے گرد آگ بھڑک رہی ہوگی۔“(1)
عاشق اکبر کا ایمان:
اس حدیث پاک سے لوگوں کے ایمان کا فرق ظاہر ہوتا ہے۔ (نیز حدیث پاک میں اس طرح کا مفہوم بھی ملتا ہے کہ ) اگر ابوبکر صدیق کے ایمان کا وزن انبیا ومرسلین عَلَیْہِمُ السَّلَام کے علاوہ تمام لوگوں کے ایمان سے کیا جائے تو ابوبکر کے ایمان کا پلڑا بھاری ہو۔
عاشق اکبر کے ایمان کی مثال:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکےایمان کی مثال قائل کے اس قول کی طرح ہے:”اگر سورج کی روشنی سے چراغوں کی روشنی کا وزن کیا جائے تو سورج کی روشنی زیادہ ہوگی۔“لہٰذا عام لوگوں میں کچھ کا نورِایمان چراغوں کی مثل ہے، کچھ کا شمع کی مثل، صدیقین کا چاند ستاروں کی مثل ہے اور انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کا نورِ ایمان سورج کی طرح روشن ہے۔
جس طرح سورج کی روشنی میں دنیا کی وسعت کے باوجود اس کی ہرشے روشن ہوتی ہے اور چراغ کی روشنی میں صرف گھر کا ایک حصہ روشن ہوتا ہے اسی طرح مَعْرِفَتِ الٰہی و ایمان کے سبب سینے روشن ہونے اور عارفین کے دلوں پر غیبی اَسرار منکشف ہونے کے بھی مختلف درجے ہیں۔ چنانچہ،
حدیثِ پاک میں ہے کہ ”بروزِقیامت ندا کی جائے گی کہ جس کے دل میں مثقال برابر،نصف مثقال، چوتھائی مثقال یا جَو یا ذرّے برابر بھی ایمان ہو اسے جہنم سے نکال دیا جائے۔“(2)
اس حدیث پاک سے جہاں یہ معلوم ہوا کہ ایمان کے مختلف درجات ہیں وہیں یہ بھی معلوم ہوا کہ ایمان کی اتنی مقدار دُخُولِ جَہَنَّم سے مانع نہیں اور اسی حدیث پاک میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبير،۹/ ۳۵۷،حديث:۹۷۶۳ملتقطًا
2…قوت القلوب،الفصل الثلاثون،ذکرتفصيل الخواطر...الخ،۱/ ۲۰۵