Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
64 - 1245
 رب تعالیٰ کی تجلی انہیں خوب روشن کردیتی ہے اور ظاہری علما رومیوں کی طرح ظاہری حواس کے ذریعے دلوں پر علوم نقش کرتے ہیں۔
مومن ہی سعادت مند ہے:
	بہرحال مومن جیسا بھی ہو اس کا دل نہیں مرتا، ایمان کی صورت میں حاصل ہونے والی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معرفت موت کے سبب اس کے دل سے کم نہیں ہوتی۔ حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی اپنے اس قول میں اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں:”جس دل میں ایمان ہو اسے مٹی نہیں کھاتی۔“بلکہ ایمان ہی اللہ عَزَّوَجَلَّ کا قرب پانے کا وسیلہ ہے۔ حصول علم(یعنی معرفت الٰہی) کے لئے دل کی صفائی ستھرائی وہی کرتا ہے جسے نَفْسِ علم(یعنی حققیت ایمان) حاصل ہو اور سعادت مند وہی شخص ہوتا ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ پر یقین و ایمان رکھتا ہو مگر بعض لوگ بعض سے زیادہ سعادت مند ہوتے ہیں۔ جس طرح غنی وہی کہلاتا ہے جس کے پاس مال ہو تو ایک درہم کامالک بھی مال دار کہلائے گا اور جس کے خزانے بھرے پڑے ہوں وہ بھی مال دار کہلائے گا لیکن مال کی قلت و کثرت کے سبب مال داروں کے درجات مختلف ہوتے ہیں۔ پس معرفت و ایمان میں تفاوت کے سبب سعادت مندوں کے درجات بھی مختلف ہیں۔
مؤمنین حَسْبِ ایمان پل صراط سے گزریں گے:
	مَعْرِفَتِ الٰہی نور ہے اسی کے ذریعے مومن کل قیامت میں اللہ عَزَّ وَجَلَّسے ملاقات کے لئے دوڑے گا۔ چنانچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
یَسْعٰی نُوۡرُہُمۡ بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمْ وَ بِاَیۡمَانِہِمۡ (پ۲۷،الحدید:۱۲)
ترجمۂ کنز الایمان:ان کا نور ان کے آگے اور ان کے دہنے دوڑتا ہے۔
	حدیث پاک میں ہے کہ ”بعض مسلمانوں کو پہاڑ کے برابر نور عطا کیا جائے گا اور بعض کو اس سے کم حتی کہ سب سے کم جسے عطا کیا جائے گا اس کے پاؤں کے انگوٹھے پر ہوگا، وہ نور وقفے وقفے سے روشن ہوگا، جب روشن ہوگا اس کی مدد سے وہ مسلمان اپنا قدم آگے بڑھائے گا۔ پل صراط سے مسلمان اپنے نور کے اعتبار سے گزریں گے، بعض پلک جھپکتے ہی، بعض بجلی کی مانند، بعض بادلوں کی طرح، کوئی ٹوٹتےہوئے ستارے کی