اس مثال اور بحث کے ذریعے انبیائے کرام واولیائے عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام اور ظاہری علما وحکما کے علم میں فرق واضح ہوگیا کہ انبیائے کرام واولیائے عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام کو دل کے باطنی دروازے سے علم حاصل ہوتا ہے جو کہ غیبی دنیا کی طرف کھلتا ہے جبکہ ظاہری علما اور حکما کو ظاہری حواس والے دروازے سے حاصل ہوتا ہے جو کہ ظاہری دنیا کی طرف کھلتا ہے۔ دلی عجائبات اور ان کا ظاہری اور غیبی دنیا سے دل کی طرف منتقل ہونے کو مکمل طور پر علم معاملہ میں مثالوں کے ذریعے بیان نہیں کیا جاسکتا، البتہ! مذکورہ مثال سے ظاہری علم کے مقابلے میں کَشْف کا مقام ومرتبہ ضرور معلوم ہوگیا۔
٭…دوسری مثال: اس مثال کے ذریعے ظاہری علما اور صوفیا کی کوشش و عمل (اور انہیں حاصل ہونے والے ظاہری علم و کشف) کا فرق واضح کیا جائے گا۔ بےشک ظاہری علما اس کے لئے کوششیں کرتے ہیں کہ علم ان کے دل کو حاصل ہوسکے جبکہ صوفیا واولیا کا عمل فقط دل کو روشن اور پاک وصاف کرنے کے لئے ہوتا ہے۔ چنانچہ،
حکایت: چینی اور رومی لوگوں کی نقش نگاری
منقول ہے کہ کسی بادشاہ کے سامنے چین اور روم کے لوگوں نے اپنی نقش نگاری اور تصویر سازی کو بڑے فخریہ انداز میں بیان کیا، بادشاہ نے حکم دیا کہ مقابلے کے لئے انہیں ایک مکان دیاجائے جس کی دیوار کے ایک جانب چین والے اور دوسری جانب روم والے نقش نگاری کریں اور درمیان میں پردہ ڈال دیا جائے تاکہ ایک کو دوسرے کی اطلاع نہ ہوسکے۔ چنانچہ بادشاہ کے حکم کی تعمیل کی گئی اور رومی عجیب وغریب قسم کے بےشمار رنگ لے آئے جبکہ چینی لوگ بغیر رنگ کے ہی گھر میں داخل ہوگئے اور دیوار خوب صاف کرنا شروع کردی، جب رومی لوگ اپنے کام سے فارغ ہوگئے تو چینی لوگوں نے کہا ہم بھی فارغ ہو گئے ہیں۔ بادشاہ کو تعجب ہوا کہ یہ کسی رنگ کے بغیر نقش نگاری سے کیسے فارغ ہوگئے! جب اس بارے میں ان سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:آپ کو اعتراض کا حق نہیں آپ پردہ اٹھائیے۔ پردہ اٹھانے کے بعد جب دیکھا گیا تو چینی لوگوں کی جانب والا دیوار کا حصہ رومیوں کے نقش ونگار سے خوب روشن اور چمک رہا تھا کیونکہ صفائی کی کثرت کے سبب دیوار صاف ستھرے آئینہ کی طرح ہوگئی تھی اور اس جانب کا حُسْن مزید بڑھ گیا تھا۔
اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام چینی لوگوں کی طرح اپنے دلوں کو خوب پاک وصاف کرتے ہیں حتّٰی کہ