پانی نہیں نکلتا اور پانی کے ذریعے سورج دیکھنے والا شخص سورج کی طرف نظر نہیں کرتا۔
دل کے دو دروازے:
گویادل کے دو دروازے ہیں:ایک غیبی دنیا یعنی لوح محفوظ اور عالَم ملائکہ کی طرف کھلتا ہے اوردوسرا ظاہری حواس کی طرف کھلتا ہے جن کے ذریعے ظاہری دنیا اور اشیاء کی حقیقتوں کو جانا جاتا ہے۔ ظاہری دنیا بعض اوقات غیبی دنیا سے آگاہی کا سبب بنتی ہے۔
بہرحال ظاہری حواس کی طرف والا دل کا دروازہ تو ہرایک کے لئے کھلا ہے لیکن غیبی دنیا اور لوح محفوظ کی طرف والا باطنی دروازہ صرف اسی کے لئے کھلتا ہے جو خوابوں میں ظاہر ہونے والے رازوں کو جان لیتا ہو۔ یقیناً نیند میں دل ماضی اور مستقبل کی باتوں پر مطلع ہوتا ہے لیکن یہ اطلاع ظاہری حواس اور غور وفکر کے ذریعے حاصل نہیں ہوتی بلکہ اس شخص کو حاصل ہوتی ہے جو گوشہ نشینی اپنالے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کرتا رہے۔ چنانچہ،
سبقت لے جانے والے:
مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور نبیِّ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”سَبَقَ الْمُفَرِّدُوْن یعنی مُفَرِّدُوْن سبقت لے گئے۔“ عرض کی گئی:”یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم مُفَرِّدُوْن کون لوگ ہیں؟“ ارشاد فرمایا:”اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ذکر کثرت سے کرنے والے، ذکرِالٰہی نے ان کے بوجھ ان سے دور کر دئیے اور قیامت کے دن وہ(بارگاہ الٰہی میں)ہلکے پھلکے حاضر ہوں گے۔“(1)پھرفرمایا:اللہ عَزَّ وَجَلَّان کے اَوصاف بیان کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:’’میں ان کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، کیا تم جانتے ہو میں کس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، کوئی جانتا ہے کہ میں انہیں کیاعطاکرنے والا ہوں؟“(2) پھر ارشاد فرماتا ہے:”سب سے پہلے میں انہیں اِس نعمت سے نوازتا ہوں کہ اِن کے دلوں کو نور سے بھر دیتا ہوں، پھر وہ میرے متعلق وہی کچھ کہتے ہیں جو انہیں میری طرف سے پہنچتا ہے۔“
ان خبروں کا دخول باطنی دروازے سے ہوتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…نوادرالاصول،الاصل التاسع والستون والمائتان،الجزء الثانی،ص۱۱۵۷بتغیرقلیل
2…قوت القلوب،الفصل الرابع عشرفی ذکرتقسيم قيامِ الليل...الخ،۱/ ۷۲