ہوجاتی ہیں۔ چنانچہ اشیاء کے متعلق دل میں موجود حقائق ذہن میں پائی جانے والی تصاویر کے مطابق ہوتے ہیں اور ذہن میں موجود تصاویر حقیقت میں موجود اشیاء کے موافق ہوتی ہیں اور حقیقت میں پائی جانے والی ہر شے لوح محفوظ پر نقش عبارت کے موافق ہے۔ گویا اشیاء کے وجود کے چار درجات ہیں:(۱)…لوحِ محفوظ میں نقش وجود، یہ جسمانی وجود میں آنے سے پہلے کی صورت ہے (۲)…حقیقی وجسمانی وجود (۳)…بذریعہ صورت ذہن میں آنے والا وجود اور (۴)…بذریعہ صورت دل پر نقش ہونے والا وجود۔
ان میں سے بعض وجود روحانی ہیں اور بعض جسمانی، پھر روحانی وجود میں سے بھی بعض،بعض سے زیادہ روحانی ہیں۔ یہ حِکْمَتِ اِلٰہیہ ہے کہ اس نے انسانی آنکھ بہت چھوٹی بنائی لیکن اسے وُسْعَت بےپناہ عطا فرمائی کہ دنیا کی ہر شے اور زمین وآسمان اپنی وسعت کے باوجود اس میں سماجاتے ہیں، پھر آنکھ کے ذریعے اشیاء کا وجود ذہن میں بس جاتا ہے اور ذہن سے دل پر نقش ہوجاتا ہے۔
خبردار! انسان وسیلے کے بغیر ہرگز اشیاء کا ادراک نہیں کرسکتا، اگر اللہ عَزَّوَجَلَّ اشیاء کو بطور مثال دل میں منتقل نہ فرمائے تو انسان کسی شے کی حقیقت نہ جان سکے۔ پاکی ہے اس ذات کے لئے جس نے ان عجائبات کو دلوں اور آنکھوں کے لئے تیار فرمایا لیکن کچھ دلوں اور آنکھوں کو ان کے ادراک سے محروم کردیا حتی کہ اکثر لوگوں کے دل اپنے نفس اور ان عجائبات سے غافل ہیں۔
اب ہم اپنے مقصود (یعنی ظاہری علم اور کشف کے درمیان فرق بیان کرنے) کی طرف لوٹتے ہیں: دل میں اشیاء کی حقیقت وصورت کبھی حواس کے واسطے سے حاصل ہوتی ہے اور کبھی لوحِ محفوظ کے ذریعے جیساکہ آنکھ میں سورج کی تصویر کبھی بعینہٖ سورج کی طرف دیکھنے سے واضح ہوجاتی ہے اور کبھی اس پانی کی طرف دیکھنے سے واضح ہوتی ہے جس میں سورج نظر آرہا ہو۔ کبھی دل اور لوح محفوظ کے درمیان حائل پردہ اٹھا دیا جاتا ہے اور دل پر اشیاء کی حقیقتیں (لوح محفوظ کے ذریعے ہی) واضح ہوجاتی ہیں، دل سے علوم کے چشمے جاری ہوجاتے ہیں اور اب علم حاصل کرنے کے لئے اسے ظاہری حواس کی حاجت نہیں رہتی۔ یہ کیفیت زمین کے نیچے سے پانی کاچشمہ جاری ہوجانے کی طرح ہے۔ یونہی کبھی انسان ظاہری حواس کے ذریعے علم حاصل کرتا ہے۔ اس وقت دل پر پڑے پردے کے سبب انسان لوحِ محفوظ پر لکھی باتیں نہیں پڑھ پاتا جیساکہ نہروں سے پانی بھرنے کی صورت میں زمین کے نیچے سے