Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
60 - 1245
ظاہری علم اور کشف کے درمیان فرق کی دو مثالیں:
٭…پہلی مثال: فرض کیجئے کہ زمین میں کھدے گڑھے میں پانی جمع کرنا ہے تو اس کی دو صورتیں ہیں:پہلی صورت یہ ہے کہ مختلف نہروں سے پانی اس تک پہنچا دیا جائے اور دوسری صورت یہ ہے کہ اسے مزید کھودا جائے حتی کہ زمین کے نیچے سے تازہ پانی جاری ہوجائے۔ دوسری صورت میں نکلنے والا پانی تازہ، مقدار میں زیادہ اور دیر تک رہنے والا ہوگا۔
	دل کی مثال اس گڑھے کی سی ہے، علم پانی کی طرح ہے جبکہ ظاہری حواس نہروں کی مثل ہیں۔ اب دل تک علوم کی رسائی ظاہری حواس کے ذریعے بھی ممکن ہے کہ جس قدر مشاہدہ وسیع ہوگا دل اسی قدر علوم سے بھرتا چلا جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ ظاہری حواس کی صورت میں جاری ان نہروں کو گوشہ نشینی اور تنہائی کے ذریعے بند کردیا جائے اور دل کی پاکیزگی کے ذریعے اس گڑھے کو خوب گہرا کیا جائے۔نیز اس پر پڑے پردے ہٹادئیے جائیں حتی کہ کشف کے ذریعے اس سے علم کی صورت میں پانی کے چشمے پھوٹ پڑیں۔
ایک سوال اور اس کا جواب:
	اگر آپ کہیں کہ دل سے علم کا جاری ہونا کیسے ممکن ہے جبکہ دل تو اس سے خالی ہوتا ہے؟
	توجان لیجئے کہ یہ معاملہ دل کے عجائبات میں سے ہے، علم معاملہ میں اس کی مثال نہیں ملتی، بس اتنا کہا جاسکتا ہے کہ اشیاء کی حقیقتیں لوح محفوظ بلکہ مُقَرَّب فرشتوں کے قلوب میں ہیں، جس طرح ماہر تعمیرات (Architect) ایک سادہ کاغذ پر عمارت کا نقشہ بناتا ہے پھر اس کے مطابق عمارت وجود میں آتی ہے اسی طرح آسمان وزمین بنانے والے نے تاقیامت ہونے والے واقعات اَوّلاً لوحِ محفوظ پر نقش فرمائے پھر اس کے مطابق اشیاء وجود میں لاتا ہے اور دنیا میں موجود جو بھی شے انسانی نظر سے گزر جائے تو اس کی صورت بعینہٖ ذہن میں چھپ جاتی ہے، اب اگر انسان اپنی آنکھیں بند بھی کرلے تو گویا وہ منظر اس کے سامنے ہوتا ہے، بالفرض دنیا فنا ہوجائے اور انسان باقی رہے تو اس کی تصویر انسان کے ذہن میں اس طرح باقی رہے گی گویا وہ اسے دیکھ رہا ہے، ذہن میں بسنے والی ان تصاویر کا اثر پھر دل پر ہوتا ہے اور یوں ذہن میں موجود اشیاء کی حقیقتیں دل پر نقش