ظاہری اسباب کے ذریعے اشیاء کی حقیقتوں کو نہ جانے اور علم حاصل کرکے نفس کی اصلاح نہ کرے تو دل نہ صرف فاسد خیالات میں مبتلا ہوجاتا ہے بلکہ ان پر مطمئن بھی ہوجاتا ہے اور بعض اوقات انسان ان فاسد عقائد کو دل سے دور کئے بغیر ہی موت کا شکار ہوجاتا ہے۔ کتنے مجاہدۂ نفس کرنے والے 20 سال تک ایک ہی بات سوچتے رہے جبکہ اگر وہ پہلے علم حاصل کرنے کے ظاہری اسباب اپناتے تو ان پر فَورًا وہ بات واضح ہوجاتی۔ معلوم ہوا کہ ظاہری اسباب یعنی درس وتدریس کے ذریعے علم حاصل کرنا زیادہ بہتر اور مقصد کے زیادہ لائق ہے۔
علم کے بغیر مجاہدہ کرنے والے عام انسان کی مثال:
علمائے ظاہر کی نظر میں حصول علم کے ظاہری اسباب چھوڑ کر مجاہدے کرنے والے عام انسان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو علم فقہ کا حصول یہ گمان کرتے ہوئے چھوڑ دے کہ حضور نبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بھی اسے سیکھے بغیر وحی و الہام الٰہی کے ذریعے فقاہت کے اعلیٰ مرتبے پر فائز ہوئے تو میں بھی مستقل ریاضت کرکے جب اس کی انتہا کو پہنچوں گا تو فقیہ بن جاؤں گا۔ ایسا گمان کرنے والا اپنی جان پر ظلم اور اپنی زندگی برباد کرتا ہے بلکہ یہ تو اس شخص کی طرح ہے جو تجارت وکھیتی باڑی چھوڑ کر خزانہ پانے کی امید کرتا ہے، اس طرح سے اگرچہ خزانے کا حصول ممکن ہے لیکن عقلاً بہت بعید ہے۔ عام انسان کے مجاہدے کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔
عُلَمائے ظاہر ومجتہدین فرماتے ہیں: انسان کے لئے ضروری ہے کہ پہلے ظاہری اسباب کے ذریعے شرعی احکام کا علم حاصل کرے، اس کے بعد کَشْف کے انتظار میں مجاہدات کرنے میں کوئی حرج نہیں، ہوسکتا ہے کہ جو کشف علمائے ظاہر کو حاصل نہیں ہوتا وہ اسے حاصل ہوجائے۔
دوسری فصل: ظاہری علم اور کَشْف کے درمیان فرق
جان لیجئے کہ دل کے معاملات کا ادراک محسوسات کے ذریعے ممکن نہیں کیونکہ ظاہری حِس تو خود دل کا ادراک نہیں کرسکتی اور جن چیزوں کا ادراک ظاہری حواس کے ذریعے ممکن نہ ہو کمزور عقل والے انہیں حِسِّی مثالوں کے ذریعے ہی سمجھ سکتے ہیں،لہٰذا ہم بھی ان دونوں کا فرق دو مثالوں کے ذریعے سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔