اس کا دل انوارِالٰہی سے روشن ہوجاتا ہے۔ ابتداءً تجلی الٰہی بجلی کی طرح پڑتی ہے پھر اگر لوٹ آئے تو وقفے وقفے سے اس کا سینہ روشن ہوتا رہتا ہے۔ بعض لوگوں پر یہ انوار مسلسل وارد ہوتے رہتے ہیں اور بعض کا دل صرف ایک مرتبہ روشن ہوتا ہے۔ اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللہُ السَّلَام کے مراتب ان کی صفات کے اعتبار سے بےشمار ہیں، لہٰذا اس راہ پر چلنے والے کو چاہئے کہ اپنے دل کو پاک وصاف کرے اور رَحْمَتِ الٰہی کا مُنْتَظِر رہے۔
مجاہدۂ نفس علمائے ظاہر کی نظر میں:
علمائے ظاہرومجتہدین صوفیائے کرام کے اس طریقے(یعنی مجاہدۂ نفس) اور اس کے فائدے کا انکار نہیں کرتے کیونکہ انبیائے کرام اور اولیائے عظامعَلَیْہِمُ السَّلَام کی سیرتوں میں یہ طریقہ ملتا ہے لیکن وہ فرماتے ہیں کہ اس راہ میں بہت سی مشقتیں برداشت کرنی ہوتی ہیں، اس کے ثمرات دیر سے ظاہر ہوتے ہیں۔ نیز اس کی شرائط(1) کا جمع ہونا بھی بےحد مشکل ہے۔ ان کے خیال میں دنیا سے اس قدر کٹ جاناانسان کے لئے متعذر ہے، اگر وقتی طور پر یہ کیفیت طاری ہوبھی جائے تو اس کا برقرار رہنا تقریباً ناممکن ہے کیونکہ معمولی وسوسے اور خیالات دل میں ضرور رہتے ہیں۔ چنانچہ رسول اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’قَلْبُ الْمُؤْمِنِ اَشَدُّ تَقَلُّبًا مِّنَ الْقِدْرِ فِیْ غِلْیَانِھَا یعنی مومن کا دل اُبلتی ہوئی ہانڈی سے بھی زیادہ جوش مارتا ہے۔“(2)ایک حدیث پاک میں ہے: ”قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْنَ اُصْبُعَیْنِ مِنْ اَصَابِعِ الرَّحْمٰن یعنی مومن کا دل رحمٰن عَزَّ وَجَلَّ کی دوانگلیوں کے درمیان ہے(3)۔“(4)
ان تمام وجوہات کے باوجود اگر مجاہدۂ نفس مستقل مزاجی سے کیا بھی جائے تو بعض اوقات اس کے دوران ہی مزاج بگڑجاتا ہے، کبھی عقل میں خرابی آجاتی ہے اور کبھی بدن کمزور ہوجاتا ہے۔ اگر انسان اس راہ پر چلنے سے پہلے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…مجاہد نفس کی شرائط کے حوالے سے مزید تفصیل آئندہ آنے والے ”ریاضت نفس کے بیان“ میں دوسرے باب کی چھٹی فصل کے تحت آرہی ہے۔
2…المسندللامام احمدبن حنبل،حديث المقدادبن الاسود،۹/ ۲۱۷،حديث:۲۳۸۷۷،بتغیر
3…مفسرشہیر،حکیم الامت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّانمراٰۃ المناجیح،جلد1،صفحہ99پر اس کے تحت فرماتے ہیں: یہ عبارت متشابہات میں سے ہے کیونکہ رب تعالیٰ انگلیوں ہاتھوں وغیرہ اعضاء سے پاک ہے،مقصد یہ ہے کہ تمام کے دل اللہ(عَزَّ وَجَلَّ)کے قبضہ میں ہیں کہ نہایت آسانی سے پھیر دیتا ہے۔
4… مسلم،کتاب القدر،باب تعريف الله تعالٰی القلوب کيف يشاء،ص۱۴۲۷،حديث:۲۶۵۴