Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
57 - 1245
 سے غفلت کا پردہ ہٹا دیا جاتا ہے، اشیاء کی حقیقتیں دل پر واضح ہوجاتی ہیں،لہٰذا انسان کو چاہئے کہ مجاہدۂ نفس کرتا رہے اور حضورِ قلب، سچے ارادے اور شدتِ پیاس سے ہمیشہ رب تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر رہے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّاپنی رحمت کا دروازہ اس پر کھول دے کیونکہ انبیائے کرام اور اولیائے عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر جو حقائق واضح ہوتے ہیں اور ان کے سینے  نور سے روشن ہوتے ہیں اس کی وجہ درس و تدریس اور کتابت نہیں ہوتی بلکہ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا اور اس کی رنگینیوں سے کنارہ کش ہوجاتے ہیں، دل کو دنیاوی معاملات سے فارغ کرلیتے اور سچے ارادے سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں۔ پس جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا ہوجاتا ہے اللہ عَزَّوَجَلَّ اس کا ہوجاتا ہے۔
مجاہَدۂ نفس کا طریقہ:
	اہْلِ کشف کے نزدیک مجاہدۂ نفس کا طریقہ یہ ہے کہ اوّلاً دنیا کی خواہشات سے چھٹکارا حاصل کیا جائے، دل کو ان سے پاک کیا جائے، اہل وعیال، مال، گھر، علم  اور جاہ ومنصب سے توجہ بالکل ہٹالی جائے اور دل کو ایسا کرلیا جائے کہ کسی چیز کے ہونے نہ ہونے سے اس پر کچھ اثر نہ ہو، اب گوشہ نشین ہوکر فرائض و نوافل پڑھتا رہے، دل کو ہر چیز سے فارغ کرلے حتّٰی کہ قرآنِ پاک کی تلا وت  کرنے،تفسیر وحدیث میں غور وخوض کرنے سے اس کی فکر میں فرق نہ آئے اور کوشش کرے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا اس کے دل میں کسی کا خیال نہ آئے، گوشہ نشینی کے دوران حضورِ قلب کے ساتھ ”اللہ اللہ “ کا ورد اس کثرت سے کرے کہ زبان اگرچہ رک جائے لیکن یہ کلمہ جاری رہے، پھر زبان کے بجائے دل ہی دل میں اس کا ورد کرتا رہے حتی کہ یہ کیفیت ہوجائے کہ دل سے حروف وکلمہ کی شکل مٹ جائےاور اس کا معنی دل پر ایسا جم جائے کہ کبھی جدا نہ ہو۔
	بندے کو اس مقام تک پہنچنے اور وساوس کو خود سے دور کرکے ہمیشہ اسی حالت پر قائم رہنے کا تو اختیار حاصل ہے لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رحمت حاصل کرنا بندے کے اختیار میں نہیں بلکہ ان اعمال کے ذریعے رحمتِ الٰہی کی امید بڑھ جاتی ہے اور بندہ اب رحْمَتِ الٰہی کے نزول کا منتظر رہتا ہے جیساکہ انبیائے کرام اور اولیائے عظام عَلَیْہِمُ السَّلَام پر ان اعمال کے سبب رحمت کا دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ اس وقت اگر بندے کاارادہ سچا ہو، توجہ خالص ہو، استقامت کامل ہو، خواہشات سے مکمل چھٹکارا حاصل ہو کہ دل میں دنیا کا ذرا بھی خیال نہ ہو تو