Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
56 - 1245
 لئے چمکتی بجلی کی طرح ہوتا ہے اور کبھی وقفے وقفے سے ہوتا ہے اور کچھ دیر تک رہتا ہے، دائمی کشف بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔
قیاس، اِلہام اور وحی میں فرق:
	بہرحال الہام اور قیاس میں نفس علم کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں دونوں کا سبب اور محل ایک ہے لیکن یہ فرق ضرور ہے کہ الہام کی صورت میں دل اور اشیاء کی حقیقتوں کے درمیان حائل پردہ ہٹا دیا جاتا ہے جبکہ قیاس میں ایسا نہیں ہوتا کیونکہ اس پردے کو ہٹانا بندے کے اختیار میں نہیں۔ یونہی الہام اور وحی میں یہ فرق ہے کہ وحی کی صورت میں القا کرنے والا فرشہ ظاہر ہوجاتا ہے جس کے ذریعےعلم دلوں تک پہنچایا جاتا ہے۔ چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّالقا کے متعلق ارشاد فرماتا ہے:وَ مَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنۡ یُّکَلِّمَہُ اللہُ اِلَّا وَحْیًا اَوْ مِنۡ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْ یُرْسِلَ رَسُوۡلًا فَیُوۡحِیَ بِاِذْنِہٖ مَا یَشَآءُ ؕ (پ۲۵،الشورٰی:۵۱)    ترجمۂ کنز الایمان: اور کسی آدمی کو نہیں پہنچتا کہ اللہ اس سے کلام فرمائے مگر وحی کے طور پر یا یوں کہ وہ بشر پردۂ عظمت کے ادھر ہو یا کوئی فرشتہ بھیجے کہ وہ اس کے حکم سے وحی کرے جو وہ چا ہے۔
اہلِ کَشْف کا حُصولِ علم کا طریقہ:
	ماقبل کلام سے جب آپ نے الہام اور قیاس کا فرق جان لیا تو یہ بھی جان لیجئے کہ اہل کشف و صوفیائے کرام بظاہر علم حاصل کرنے کے بجائے اِلہامی عُلُوم کے حُصُول کی طرف میلان رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ نہ زیادہ درس وتدریس کرتے ہیں نہ تصانیف پڑھتے ہیں اور نہ ہی اقوال و دلائل کے متعلق بحث کرتے ہیں بلکہ فرماتے ہیں کہ اوّلاً مجاہدۂ نفس کے ذریعے بُری صفات کو مکمل طور پر ختم کرنا چاہئے پھر سچے ارادے سے اللہ عَزَّوَجَلَّ کی طرف متوجہ ہونا چاہئے۔
	جب انسان یہ طریقہ اپناتا ہے تواللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کا دل اپنے ذمۂ کرم پر لےلیتا ہے اور جب دل کے معاملات اللہ عَزَّ وَجَلَّکے ذمۂ کرم پر ہوں تو اس پر رحمتوں کی بارش ہوتی ہے، دل نور سے جگ مگا اٹھتا ہے، سینہ (انوارِالٰہی کے لئے) کھول دیا جاتا ہے، اس پر غیبی اَسرار ظاہر کردیئے جاتے ہیں، رحمتِ الٰہی کے سبب دل