باب نمبر3: معرفت حاصل کرنے کا بیان(اس میں آٹھ فصلیں ہے)
پہلی فصل: اہل کَشْف اور عُلَمائے ظاہر کا علم
جان لیجئے کہ علم نظری حاصل ہونے کی مختلف صورتیں ہیں کبھی بغیر کسی غور وفکر کے یک دم دل میں ڈال دیا جاتا ہے اور کبھی غور وفکر کرنے اور سیکھنے سے حاصل ہوتا ہے۔
جو نظری علم غور وفکر کے ذریعے حاصل ہو اسے ”قیاس“ کہتے ہیں اور جو یک دم دل میں القا کردیا جائے اس کی دو صورتیں ہیں:(۱)…جس بندے پر القا ہوا وہ خود نہ جانتا ہو کہ اسے یہ علم کیسے اور کہاں سے حاصل ہوا تو اسے ”اِلہام“ کہتے ہیں اور(۲)…اگر بندہ القا کرنے والے فرشتے کو دیکھے اور اس پر القا کے اسباب ظاہر ہوں تو اسے ”وحی“ کہتے ہیں۔
وحی انبیائے کرامعَلَیْہِمُ السَّلَام کا خاصہ ہے، الہام اولیا و صوفیارَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰی کا خاصہ ہے اور غور وفکر کرنے اور سیکھنے سے حاصل ہونے والا علم یعنی قیاس علمائے ظاہر کے ساتھ خاص ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ دل اس لئے پیدا کیا گیا ہے کہ تمام امور اس پر حق تعالیٰ کی تجلی سے روشن ہوجائیں۔ لیکن پانچ وُجوہات جو ہم پچھلے باب میں ذکر کرچکے وہ دل اور تجلی الٰہی کے درمیان اس پردے کی طرح حائل ہوجاتی ہیں جو دل اور لوح محفوظ کے درمیان رکاوٹ ہے اور لوح محفوظ پر قیامت تک ہونے والے وہ تمام اُمورنَقْش ہیں جن کے متعلقاللہ عَزَّ وَجَلَّفیصلہ فرماچکا۔ لوحِ محفوظ پرنَقْش حقیقتوں کا دل پر واضح ہونا ایسے ہے جیسے کسی شے کی صورت کا دو آئینوں میں ظاہر ہونا۔ جس طرح ان دو آئینوں کے درمیان حائل پردہ کبھی ہاتھ سے ہٹایا جاتا ہے اور کبھی ہوا اسے ہٹا دیتی ہے اسی طرح دلوں پر پڑے پردے بھی کبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کےجود وکرم کے انوار سے دور ہوجاتے ہیں اور لوح محفوظ پر نقش بعض حقائق دل پر روشن ہوجاتے ہیں اورکبھی خواب میں یہ پردے ہٹا دئیے جاتے ہیں اور انسان مستقبل میں ہونے والے واقعات جان لیتا ہے۔
دل پر پڑے تمام پردے موت کے بعد ہی اٹھائے جاتے ہیں اس وقت انسان پر تمام امور ظاہر ہوجاتے ہیں، بعض اوقات بیداری میں بھی تجلی الٰہی کے ذریعے یہ پردے ہٹادیئے جاتے ہیں اور انسان کا دل غیبی پردوں میں چھپے علم سے مُزَیَّن ہوجاتا ہے۔ اب دل کا علم سے مُزَیَّن ہونا یعنی کَشْف بعض اوقات لمحہ بھر کے