Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
54 - 1245
دنیاوی علم والے کی بات سن کر دین سے دور نہ ہو:
	خبردار! دنیاوی علوم میں مہارت رکھنے والے شخص کو اگر تم دین کی کسی غیر مشہور بات کا بھی انکار کرتے سنو تو اس کے دھوکے میں آکر دین کا انکار نہ کربیٹھنا کیونکہ مشرق کی طرف چلنے والا شخص مغرب کی طرف پائی جانے والی شے حاصل کرنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوتا۔ دنیا و آخرت کا معاملہ بھی اسی طرح ہے۔ انہی دنیاداروں کے متعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
﴿1﴾…
اِنَّ الَّذِیۡنَ لَایَرْجُوۡنَ لِقَآءَنَا وَ رَضُوۡا بِالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ اطْمَاَنُّوۡا بِہَا (پ۱۱،يونس:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:بیشک وہ جو ہمارے ملنے کی امید نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی پسند کربیٹھے اور اس پر مطمئن ہوگئے۔
﴿2﴾…
یَعْلَمُوۡنَ ظَاہِرًا مِّنَ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ۚۖ وَہُمْ عَنِ الْاٰخِرَۃِ ہُمْ غٰفِلُوۡنَ ﴿۷﴾ (پ۲۱،الروم:۷)
ترجمۂ کنز الایمان:جانتے ہیں آنکھوں کے سامنے کی دنیوی زندگی اور وہ آخرت سے پورے بےخبر ہیں۔
﴿3﴾…
فَاَعْرِضْ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکْرِنَا وَ لَمْ یُرِدْ اِلَّا الْحَیٰوۃَ الدُّنْیَا ﴿ؕ۲۹﴾ ذٰلِکَ مَبْلَغُہُمۡ مِّنَ الْعِلْمِ ؕ (پ۲۷،النجم:۳۰،۲۹)
ترجمۂ کنز الایمان:تو تم اس سے منھ پھیرلو جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے۔
	دنیوی واُخروی دونوں علوم میں کامل بصیرت ابنیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَامکو ہے جنہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے (نبوت عطا فرماکر) بندوں کے دنیوی واُخروی معاملات کی درستی کے لئے چن لیا، فرشتوں کے ذریعے ان کی تائید فرمائی اور قوتِ الٰہیہ کے ذریعے ان کی مدد فرمائی جن کے اختیار میں تمام امور ہیں۔ بقیہ تمام لوگوں کے دل اگر دنیا میں مشغول ہوجائیں تو آخرت سے غافل ہوجاتے ہیں اور اُخروی معاملات میں کمال حاصل کرنے سے محروم رہتے ہیں۔