علوم عقلیہ نظریہ کی اقسام:
عقلی نظری علوم کی دو قسمیں ہیں:(۱)…دنیوی: مثلاً طِب، حساب، ہندسہ، نُجُوم اور دیگر دنیاوی علوم۔(۲)…اُخروی: مثلاً دل کے احوال، اعمال کی آفات اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ذات وصفات اور اس کے اَفعال کا علم۔ اسے ہم تفصیلاً ”علم کے بیان“میں ذکر کرچکے ہیں۔
یہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، کسی ایک کو حاصل کرنے والا، اس کی گہرائی میں ڈوب جانے والا شخص اکثر دوسرے علم میں مہارت حاصل کرنے سے محروم رہتا ہے۔امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے دنیا و آخرت کی تین مثالیں بیان فرمائی ہیں۔چنانچہ،
دنیاو آخرت کی تین مثالیں:
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمفرماتے ہیں:’’(۱)…دنیاو آخرت ترازو کے دو پلڑوں کی طرح ہیں(۲)… مشرق ومغرب کی مثل ہیں اور(۳)… دوسوکنوں کی طرح ہیں ایک راضی ہو تو دوسری ناراض ہوجاتی ہے۔‘‘
یہی وجہ ہے کہ تم دیکھو گے جو دنیاوی علوم مثلاً عِلْمِ طِب، حساب، ہندسہ اور فلسفہ وغیرہ میں مہارت رکھتے ہیں اکثر وہ اُخروی علوم سے عاری ہوتے ہیں اور جو اُخروی علوم کی باریکیوں سے واقف ہوتے ہیں وہ اکثر وپیشتر دنیاوی علوم سے ناواقف ہوتے ہیں کیونکہ عام طور پر عقل ان دونوں کو ساتھ جمع کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی بلکہ ایک علم دوسرے میں کمال حاصل کرنے سے مانع ہوجاتا ہے۔ اسی لئے حضور پُرنور،شافع یومُ النُّشُورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:”اِنَّ اَکْثَرَ اَھْلِ الْجَنَّةِ الْبُلْہ یعنی بےشک اکثر جنتی بھولے بھالے ہوں گے۔“(1)
حدیث مبارکہ سے مراد دنیاوی معاملات میں بھولابھالا ہونا ہے۔
حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے دوران وعظ فرمایا:’’ہم ایسے لوگوں کو جانتے ہیں جنہیں تم دیکھ لو تو دیوانہ کہو اور اگر وہ تمہیں دیکھیں لیں تو تمہیں شیطانی گروہ کہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب التوکل والتسليم،۲/ ۱۲۶، حديث:۱۳۶۷