معلوم ہوا کہ انسان قرآن وحدیث کا علم سیکھنے اور عقل دونوں کا محتاج ہے۔ تو جو شخص عقل کو ایک طرف رکھ کر صرف قرآن وحدیث پڑھنے کی دعوت دے وہ جاہل ہے اور جو قرآن وحدیث کے انوار حاصل کئے بغیر محض عقل پر بھروسا کرے وہ دھوکے میں ہے۔
پس ان دونوں قسم کے لوگوں سے بچو اور عقل کو حاضر رکھتے ہوئے قرآن وحدیث کا علم حاصل کرو کیونکہ علوم عقلیہ غذا کی مانند ہیں اور علوم دینیہ وشرعیہ دواکی مانند جبکہ انسان مریض ہے اور مریض کو اگر دوا کے بغیر غذا دی جائے تو نقصان کا اندیشہ رہتا ہے۔
قلبی امراض کا معاملہ بھی اسی طرح ہے کہ ان کاعلاج بھی شریعت سے حاصل شدہ دوائیوں یعنی دل کی اصلاح کے لئے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے بیان کیے گئے عبادات و اعمال کے وظائف سے ہی ممکن ہے۔ تو جو شخص قلبی امراض کا علاج شریعت کی بیان کردہ عبادات سے نہ کرے بلکہ علوم عقلیہ پر ہی اکتفا کرے وہ ضرور نقصان اٹھائے گا جیساکہ دوا کے بغیر غذا استعمال کرنے والا مریض نقصان اٹھاتا ہے۔
دین سے دوری کی اصل وجہ علم دین سے محرومی ہے:
بعض لوگ گمان کرتے ہیں کہ عقلی اور دینی وشرعی علوم میں اس قدر تضاد ہے کہ ان کا ایک جگہ جمع ہونا ناممکن ہے، ایسا گمان کرنے کی وجہ نورِ بصیرت سے محرومی ہے، ہم اس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی پناہ چاہتے ہیں،بلکہ بعض اوقات ایسا کہنے والا تو دینی علوم میں بھی تضاد گمان کرتا ہے، انہیں بھی ایک جگہ جمع نہیں کرپاتا اور گمان کرتا ہے کہ دین میں تضاد ہے۔چنانچہ حیران و پریشان ہوکر دین سے اس طرح نکل جاتا ہے جیسے آٹے سے بال۔ اس گمراہی کی وجہ اس شخص کی اپنی کم علمی اور عجز ہے جسے وہ دینی تضاد گمان کرتا ہے۔ اس شخص کی مثال اس نابینا کی سی ہے جو کسی کے گھر جائے تو گھر میں رکھے برتنوں سے اس کے پاؤں کی ٹھوکر لگ جائے، اس پر وہ کہے:”برتن بیچ راستے میں کیوں رکھے ہیں، اپنی جگہ کیوں نہیں رکھے؟“ تو گھروالے اس سے کہیں گے کہ ”برتن تو اپنی جگہ رکھے ہیں،البتہ اپنے اندھے پن کی وجہ سے تم غلط راستے پرگئے، تعجب ہے تم پر کہ اپنی غلطی کی وجہ اپنے اندھے پن کے بجائے دوسروں کا قُصُور ٹھہراتے ہو۔“
مذکورہ کلام سے ظاہر ہوگیا کہ دینی اور عقلی (نظری وکسبی) علوم کے درمیان ایک خاص تعلق ہے۔