Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
51 - 1245
	اس آیت مبارکہ میں ظاہری آنکھ سے دیکھنا مراد نہیں کیونکہ وہ حضرت سیِّدُنا ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَامکے ساتھ ہی خاص نہیں کہ اسے احسان کے طور پر ذکر کیا جائےبلکہ باطن یعنی بصیرت کی نگاہ سے دیکھنا مرادہے۔
	بصارت و بصیرت کے درمیان مناسبت یوں بھی ثابت ہے کہ قرآن پاک میں بصیرت کی ضد لفظ ”عَمٰی (یعنی اندھاپن)“ سےبیان فرمائی گئی ہے۔ چنانچہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿1﴾…
فَاِنَّہَا لَا تَعْمَی الْاَبْصَارُ وَلٰکِنۡ تَعْمَی الْقُلُوۡبُ الَّتِیۡ فِی الصُّدُوۡرِ ﴿۴۶﴾ (پ۱۷،الحج:۴۶)
ترجمۂ کنز الایمان:تو یہ کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ وہ دل اندھے ہوتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔
﴿2﴾…
وَمَنۡ کَانَ فِیۡ ہٰذِہٖۤ اَعْمٰی فَہُوَ فِی الۡاٰخِرَۃِ اَعْمٰی وَ اَضَلُّ سَبِیۡلًا ﴿۷۲﴾ (پ۱۵،بنی اسرآئيل:۷۲)
ترجمۂ کنز الایمان:اور جو اس زندگی میں اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے اور اور بھی زیادہ گمراہ۔
	یہ تمام عقلی علوم کا بیان تھا۔
دینی علوم سے کیا مراد ہے؟
	دینی علوم سے مراد یہ ہے کہ انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کے لائے ہوئے اَحکامات کا علم بطورِتقلید حاصل کیا جائے۔ یہ علوم کتابُ اللہ اور احادیثِ رسول پڑھنے، سننے اور ان کے معانی سمجھنے سے حاصل ہوتے ہیں۔
انسان دینی اور عقلی دونوں علوم کا محتاج ہے:
	دینی علوم کے سبب دل باکمال صفات کا مالک ہوتا اور تمام باطنی بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے، عقلی علوم کی اگرچہ دل کو حاجت ہے لیکن یہ دل کی حفاظت کے لئے ناکافی ہیں جیساکہ عقل بدن کو ہمیشہ تندرست رکھنے کے لئے ناکافی ہے اسی لئے عقل ہونے کے باوجودانسان  دوائیوں اور جڑی بوٹیوں کی خُصُوصِیّات جاننے کا محتاج ہوتا ہے کہ طبیبوں کی صحبت اختیار کی جائے، ان سے کچھ سیکھا جائے کیونکہ محض عقل کے ذریعے ان کی خصوصیات نہیں جانی جاسکتیں لیکن طبیبوں کی صحبت کے بعد انہیں سمجھنا عقل کے ذریعے ہی ممکن ہے۔