سورج کی ٹکیہ کی سی ہے۔ سِنِّ شُعُور کو پہنچنے سے پہلے تک بچے کا دل علوم سے اس لئے محروم رہتا ہے کیونکہ بچے کے دل کی تختی علوم حاصل کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتی اور قلم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی وہ مخلوق ہے جو انسانوں کے دلوں میں علوم نقش کرنے کا ذریعہ ہے۔ چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشادفرماتاہے:’’ الَّذِیۡ عَلَّمَ بِالْقَلَمِ ۙ﴿۴﴾ عَلَّمَ الْاِنۡسَانَ مَا لَمْ یَعْلَمْ ؕ﴿۵﴾ (1)“جس طرح اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی صفات مخلوق کی صفات کی طرح نہیں اسی طرح یہ قلم بھی مخلوق کے قلم کی طرح لکڑی یا بانس کا بنا ہوا نہیں جیساکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّجوہرو عرض(2) ہونے سے پاک ہے۔
باطنی بصیرت کو ظاہری نظر سے تشبیہ دینا اگرچہ چند وُجوہات کی بنا پر درست ہے لیکن شرافت وفضیلت کے اعتبار سے ان میں کوئی مناسبت نہیں کیونکہ باطنی بصیرت اشیاء کا ادراک کرنے والا ربانی لطیفہ ہے جو کہ سوار کی مثل ہے جبکہ ظاہری بدن گویا اس کی سواری ہے اور سوار کا نابینا ہونا سواری کے نابینا ہونے سے اس قدر زیادہ نقصان کا باعث ہے کہ ان کے نقصان میں باہم کوئی مناسبت ہی نہیں۔
بہرحال بصارت و بصیرت کے درمیان چند وُجوہات کی بنا پر مناسبت ہے کیونکہ قرآن پاک میں ایسی مثالیں موجود ہیں جن میں دل کے ادراک کے لئے رُویت (یعنی دیکھنے) کا لفظ استعمال فرمایا گیا ہے۔ چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتاہے:
﴿1﴾…
مَا کَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰی ﴿۱۱﴾ (پ۲۷،النجم:۱۱)
ترجمۂ کنز الایمان: دل نے جھوٹ نہ کہا جو دیکھا۔
اس آیت مبارکہ میں دل کے ادراک کرنے کو رُویت (یعنی دیکھنا) فرمایا گیا۔
﴿2﴾…
وَکَذٰلِکَ نُرِیۡۤ اِبْرٰہِیۡمَ مَلَکُوۡتَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ (پ۷،الانعام:۷۵)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اسی طرح ہم ابراہیم کو دکھاتے ہیں ساری بادشاہی آسمانوں اور زمین کی۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… ترجمۂ کنزالایمان: جس نے قلم سے لکھنا سکھایا آدمی کو سکھایا جو نہ جانتا تھا۔(پ۳۰،العلق:۴ ،۵)
2…اہلسنّت کے نزدیک:جوہر سے مراد وہ جز ہے جو تقسیم نہ ہوسکے اور عرض وہ ہے جو بذات خود قائم نہ رہ سکتا ہوں بلکہ کسی محل کا محتاج ہو۔(الحدیقة الندية،۱/ ۲۴۷)