پیدا ہو اور عمل کے معاملے میں سستی آئے بلکہ آدمی کا اپنی تعریف خود کرنا برا ہے کیو نکہ اس میں تکبر اور دوسروں پر فخر کرنا پا یا جا تا ہےاس لئے حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اَنَا سَیِّدُ وَلَدِ آدَمَ وَلَا فَخْرَ یعنی میں تمام ا ولادآدم کا سردار ہوں اورکوئی فخر نہیں۔(1)
یعنی میں یہ بات فخر کے طور پر نہیں کہتا جیسا کہ لوگوں کااپنی تعریف سے مقصد فخرکرناہوتا ہے کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فخر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی ذات اور اس سے قرب کی بناپر تھا، اولاد آدم اور آپ کے ان سے مقدم ہونے کی بناپرنہ تھا۔مثلاً کوئی شخص بادشاہ کے ہاں بہت زیادہ مقبول ہو تو وہ بادشاہ کے دربار میں اپنی اس مقبولیت پر تو فخر کرے اور اس پر خوش ہو لیکن اس بات پر فخر نہ کرے کہ وہ بعض رعایا پر مُقَدَّم ہے۔
ان خرابیوں کی تفصیل کے سبب تمہیں تعریف کی مذمت اور اس پر ابھارے جانے کے مابین فیصلہ کرنے پر قدرت حاصل ہو جا ئے گی۔
جب صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے ایک فوت شدہ شخص کی تعریف کی تو رسولِ اَکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:وَجَبَتْ یعنی جنت واجب ہو گئی۔(2)
عُیُوب کی پردہ پوشی پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر اداکر:
حضرت سیِّدُنا امام مجاہد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَاحِد فرماتے ہیں:بنی آدم کے لئے فِرِشْتوں میں سے کچھ ہم نشین ہوتے ہیں،جب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان بھائی کا بھلائی کے ساتھ ذکر کرتا ہے تو فرشتے کہتے ہیں:تیرے لئے بھی اسی کی مثل ہواور جب اس کا ذکر برائی کے ساتھ کرتا ہےتو فرشتے کہتے ہیں:اے وہ ابن آدم جس کے عیبوں پر پردہ رکھا گیا ہےرک جااور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا شکر ادا کر کہ جس نے تیرے عیبوں کو چھپایا ہے۔
یہ تعریف کی خرابیاں تھیں۔
دوسری فصل: ممدوح پر لازم اُمور
جان لیجئے کہ ممدوح پر لازم ہے کہ وہ تکبر،خودپسندی اور اعمال میں سستی جیسی خرابیوں سے بہت زیادہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…سنن ابن ماجه،کتاب الزهد،باب ذکرالشفاعة،۴/ ۵۲۲،حديث:۴۳۰۸
2… مسلم،کتاب الجنائز،باب فيمن يثنی عليه خير...الخ،ص۴۷۳،حديث:۹۴۹