Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
49 - 1245
	ترجمہ: میں نے جانا کہ عقل کی دوقسمیں ہیں طبعی اور سماعی، اگرطبعی نہ ہو تو سماعی کوئی فائدہ نہیں دیتی جس طرح آنکھ کی بینائی نہ ہونے پر سورج کی روشنی فائدہ نہیں دیتا۔
	عقل کی یہ دونوں قسمیں حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین سے بھی معلوم ہوتی ہیں۔ چنانچہ پہلی قسم کی جانب حضونبیّ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اس فرمان مکرم سے اشارہ ملتا ہے کہ”مَا خَلَقَ اللّٰہُ خَلْقًا اَکْرَمَ عَلَیْہِ مِنَ الْعَقْل یعنی اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے عقل سے زیادہ عزت وشرافت والی کوئی شے پیدا نہیں فرمائی۔‘‘(1)اور دوسری قسم کی جانب اس فرمان عالیشان سے اشارہ ملتا ہے کہ جس میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے ارشادفرمایا:”اِذَا تَقَرَّبَ النَّاسُ اِلَی اللّٰہِ بِاَنْوَاعِ الْبِرِّ فَتَقَرَّبْ اَنْتَ بِعَقْلِـک یعنی لوگ نیکیاں کرکے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب پاتے ہیں تم اپنی عقل کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو۔(2)“
	اگرچہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا قرب پانے کے لئے فطری عقل اوربدیہی علم کافی نہیں بلکہ(قرآن وحدیث کا) علم سیکھنا ضروری ہے لیکن یہ خاصہ امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا علیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جیسی شخصیت کا ہی ہے کہ اپنی عقل استعمال کرکے ان علوم میں مہارت حاصل کرلیں جوقرب الٰہی کے حصول میں مددگار ہیں۔
عقلی بصیرت اور ظاہری بصارت:
	دل آنکھ کی مثل ہے، عقل اس آنکھ میں پائی جانے والی دیکھنے کی قوت ہے، یہ قوت ایک لطیفہ ہے جس کے دل کی آنکھ روشن نہیں وہ محروم رہتا ہے اور جس کے دل کی آنکھ روشن ہو وہ اگرچہ آنکھیں بند کرلے یا رات کی تاریکی چھا جائے وہ اس لطیفہ سے محروم نہیں ہوتا۔عقل کے استعمال سے دل میں حاصل ہونے والے علم کی مثال ایسی ہے جیسے آنکھ کے ذریعے اشیاء کو دیکھنا، بچپن سے بلوغت یا عقل وسمجھداری کی عمر کو پہنچنے تک علوم حاصل نہ ہونا ایسا ہے جیسے رات ڈھلنے سے سورج کی کرنیں چمکنے تک اندھیرے کے سبب اشیاء صاف دکھائی نہ دینا اور وہ قلم جس کے ذریعے اللہ عَزَّ وَجَلَّ دلوں کے صفحات پر علوم نقش فرتا ہے اس کی مثال
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المفردات فی غريب القران،کتاب العين،ص۳۴۲
2…فردوس الاخبار،۲/ ۴۸۳، حديث:۸۳۲۷بتغير