نورکے پیکر، تمام نبیوں کے سَرْوَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اگر کوئی شخص کسی کی طرف تیز چُھری لے کر جائے یہ اس سے بہتر ہے کہ اس کے منہ پراس کی تعریف کرے۔ (1)
امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےفرمایا: کسی کی تعریف کرنا اسے ذبح کرنا ہے۔
ذبح کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ:
تعریف کو ذبح کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ یہ ہےکہ مذبوح (یعنی ذبح ہونے والا)عمل سے رک جا تا ہے اور تعریف بھی عمل میں سستی کا باعث بنتی ہے یا اس لئے کہ تعریف سے خود پسندی اور تکبُّر پیدا ہو تا ہے اور یہ دونوں صفتیں ذبح کی طرح ہلاک کرنے والی ہیں اسی وجہ سے تعریف کو ذبح سے تشبیہ دی گئی۔
البتہ! تعریف کرنے والا اور جس کی تعریف کی جائےان دونوں کے حق میں تعریف اِن خرابیوں سے محفوظ ہو تو تعریف کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں بلکہ بعض اوقات تعریف کرنے پر ابھاراجاتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرات صحابہ کرام رِضْوَانُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی تعریف فرمائی۔
عاشق اکبراور فاروق اعظمرَضِیَ اللہُ عَنْہُمَا کی فضیلت:
دوجہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:لَوْ وُزِنَ اِیْمَانُ اَبِیْ بَکْرٍ بِاِیْمَانِ الْعَالَمِ لَرَجَحَ یعنی اگر ابوبکر کےایمان کو تمام مخلوق کے ایمان کے ساتھ تولاجائےتو ضرور ابوبکر کا ایمان غالب ہو گا۔(2)
امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے بارے میں ارشاد فرمایا:لَوْ لَمْ اُبْعَثْ لَبُعِثْتَ یَاعُمَرُ یعنی اگرمیں مبعوث نہ ہوتا تواے عمر!تمہیں مبعوث کیاجاتا(یعنی تمہیں نبی بنا کر بھیجا جاتا)۔ (3)
اس سے بڑھ کراور کون سی تعریف ہوسکتی ہےلیکن یہ کہ آپ نے اپنی بصیرت سے سچی بات ارشاد فرمائی اور حضراتِ صحابہ کا رتبہ اس سے بہت بلند ہے کہ تعریف کے سبب ان کے دل میں تکبر اور خود پسندی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…آداب النفوس،مذهب الصالحين واھل الرياء فی المدح والذم،ص۱۰۰
2…تاريخ مدينة دمشق،الرقم : ۳۳۹۸،ابوبکرالصديق خليفة رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ عليه وسلم،۳۰/ ۱۲۶،حدیث:۶۱۴۶
3…تاريخ مدينه دمشق،الرقم: ۵۲۰۶،عمربن الخطاب،۴۴/ ۱۱۶،حديث:۹۵۶۸،’’منکر‘‘