خرابی کا باعث نہ بن جائے اس لئے میں نے پسند کیا کہ میں(تمہاری نظروں میں)تمہارا مرتبہ گھٹادوں۔
منہ پر تعریف کرنا گویاذبح کرناہے:
﴿2﴾…جب کسی شخص کے نیک اعمال کی تعریف کی جائے گی تو وہ خوش ہوجائے گا اور (عبادت کے معاملے میں) سُست پڑجائے گااور اپنے آپ سے راضی ہوجائے گا اور جو خود کو اچھا سمجھنے لگے عبادت میں اس کی محنت وکوشش کم ہو جاتی ہے کیونکہ عمل کی کوشش وہی کرتا ہےجو خود کو کوتاہ اور سُست سمجھتا ہے۔ جب زبانوں پر تعریفی کلمات ہو ں گے تو انسان یہ گمان کرے گا کہ اس نے مقام کی بلندی کو پالیا ہے۔
اسی وجہ سے حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے(ایک شخص کے تعریف کرنے پر اس سے) ارشاد فرمایا:تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی اگر وہ اسے سن لیتا تو فلاح نہ پا تا۔
ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:جب تم نے اپنے بھائی کی اس کے منہ پر تعریف کی تو گویا تم نے اس کے حلق پر تیز اُسْتَراپھیر دیا۔(1)
کسی کی تعریف کرنے والے ایک شخص سے خَاتَمُ المُرْسَلِین،رَحْمَۃُ لِّلْعٰلَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:عَقَرْتَ الرَّجُلَ عَقَرَکَ اللّٰہ یعنی تم نے اس شخص کوذبح کر دیا اللہ عَزَّ وَجَلَّ تمہیں ہلاک کرے۔
عوام اور خواص:
حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: جب بھی میں نے کسی سے اپنی تعریف اور خوبیاں سنیں تو میں اپنی نظروں میں گر گیا۔
حضرت سیِّدُنا زِیاد بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں:جو شخص بھی اپنی تعریف یا کوئی خوبی سنتا ہے تو شیطان اسے دکھائی دیتا ہے لیکن مومن یا د آجانے پر لوٹ جاتاہے۔
حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے(ان دونوں حضرات کے کلام کو نقل کرنے کے بعد) فرمایا:دونوں نے ہی سچ فرمایااورحضرت سیِّدُنازِیاد بن مسلم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے جس کے متعلق فرمایاوہ عوام کا دل ہے اور حضرت سیِّدُنا مُطَرِّف رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےجس کے متعلق فرمایاوہ خواص کا دل ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… الزهدلابن مبارک فی نسخةزائداً،باب فی المداحين، ص۱۳،حديث:۵۲