Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
487 - 1245
فاسق کی تعریف پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ غضب فرماتاہے:
﴿4﴾…کبھی ممدوح (یعنی جس کی تعریف کی جارہی ہے اس)کو خوش کرنے کے لئے تعریف کی جاتی ہے حالانکہ وہ ظالم یا فاسق ہوتاہےاور یہ ناجائز ہے۔چنانچہ
	حضورنبیّ پاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللّٰہَ  یَغْضِبُ اِذَا مُدِحَ الْفَاسِقُ یعنی جب فاسق کی تعریف کی جاتی ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ غضب فرماتا ہے۔ (1)
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:جو ظالم کے لئے  لمبی زندگی  کی دعا کرتا ہے تحقیق وہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی زمین میں اس کی نا فرمانی کو پسند کرتا ہے۔
	ظالم فاسق ہی ہوتا ہےجس کی تعریف نہیں مذمت کرنی چاہئے تا کہ وہ غمگین ہو۔
ممدوح میں پیدا ہونے والی دو خرابیاں:
	تعریف ممدوح(یعنی جس کی تعریف کی جائے اس) کو دو طرح سے نقصان پہنچا تی ہے۔
﴿1﴾…تعریف سے دل میں تکبرو خود پسندی پیدا ہو تی ہے اور یہ دونوں  صفتیں ہلاکت کا باعث ہیں۔
سیِّدُنافاروق اعظم رَضِیَ اللہُ عَنْہ کا ممدوح کو دُرَّہ مارنا:
	حضرت سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں:حضرت سیِّدُنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ دُرَّہ لئے تشریف  فرما تھےاوردیگر لوگ آپ کے گرد حاضرتھے،اتنے میں جارُوْد بِن مُنْذِر آئے تو حاضرین میں  سے ایک شخص نے کہا:یہ ربیعہ قوم کا سردار ہے۔امیر المؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور مجلس میں موجود لو گوں نے بھی یہ جملہ سنا اور جارود بن منذر نے بھی،جب وہ آپ سے قریب ہوئے تو آپ نے انہیں آہستہ سےدُرَّہ مارا۔انہوں نے عرض کی:اے امیر المؤمنین !میرے اور آپ کے درمیان کیا معاملہ ہوا ہے؟فرمایا:میرے اور تمہارے درمیان کوئی معاملہ نہیں۔کیا تم نے یہ بات نہیں سنی؟عرض کی: میں نے اس کے منہ سے سنی ہے۔ارشاد فرمایا:مجھے خوف ہوا کہ کہیں  یہ تمہارے دل کی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…شعب الايمان،باب فی حفظ اللسان،۴/ ۲۳۰،حديث:۴۸۸۵