Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
486 - 1245
تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی:
﴿3﴾…کبھی انسان ایسی بات کہہ دیتا ہے جس کی اسے صحیح معلومات نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے جا ننے کا کوئی ذریعہ ہوتا ہے۔ مروی ہے کہ ایک شخص نےتاجدار ِرسالت،شہنشاہ ِنَبُوَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے سامنے کسی کی تعریف کی توآپ نے ارشاد فرمایا:تمہاری خرابی ہو،تم نے اپنے بھائی کی گردن کاٹ دی اگر وہ اسے سن لیتا تو فلاح نہ پا تا۔ پھر ارشاد فرمایا:اگر تم میں سے کسی کے لئے  اپنے بھائی کی تعریف کرنا ضروری ہو تو اسے چاہئے کہ یوں کہے:میں فلاں کو ایسا گمان کر تا ہوں اور میں اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ہاں کسی کو پاک صاف نہیں بتاتا، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ہی اس کا حساب لینے والاہے۔یہ کَلِمات بھی اس وقت کہےجبکہ وہ اسے ایسا ہی خیال کرے۔(1) 
	یہ خرابی اُن اوصاف کے ساتھ تعریف کرنے کی صورت میں آتی ہے جنہیں علامات کے ذریعے پہچانا جاتا ہے جیسے یہ کہنا کہ وہ مُتَّقِی،پرہیز گار ،زاہد(عبادت گزار)یا نیک شخص ہے۔ بہرحال جب وہ یوں کہے کہ میں نے اسے رات میں نماز پڑھتے،صَدَقہ کرتے اور حج کرتے ہوئے دیکھا ہے تویہ یقینی اُمور ہیں۔
	اسی طر ح یہ بھی علامات کے ذریعےپہچانے جانے والے اوصاف میں سے ہیں مثلاً یہ کہنا:وہ عادل ہے، قناعت پسند ہے۔ یہ مَخْفِی  اُمورہیں، لہٰذا جب تک باطِن کی واقِـفِیَّت نہ ہو اس وقت تک ان کے بارے میں یقینی طور پرکچھ نہیں کہنا چاہئے۔
میرے خیال میں تم اسے نہیں جانتے:
	امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ایک شخص کو کسی کی تعریف کرتے ہوئے سنا تو اس سے دریافت کیا:کیا تم نے اس کے ساتھ سفر کیا ہے؟اس نے کہا:نہیں۔فرمایا:کیا خرید و فروخت اور دیگرمُعامَلات میں اس کے ساتھ تمہارا کوئی واسطہ رہا ہے؟اس نے کہا:نہیں۔فرمایا:کیا صبح شام اس کے پڑوس میں گزارتے ہو؟اس نے کہا:نہیں۔فرمایا:اس ذات کی قسم جس کے سوا کوئی معبود نہیں میرے خیال میں تم اسے نہیں جانتے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1… بخاری،کتاب الادب،باب مايکره من التمادح،۴/ ۱۱۶،حديث:۶۰۶۱