اس حدیثِ پاک سے ایسے شخص کی طرف مُتَوجّہ ہونے،اس کے سامنےخوشی کا اظہار کرنے اور مسکرانے کی اجازت ملتی ہے جہاں تک تعریف کرنے کا تعلق ہے تو یہ صریح جھوٹ ہے اور بلاضرورت یا ایسے اِکراہ (زبردستی) کے بغیر یہ جائز نہیں کہ جس میں جھوٹ بولنا مباح ہو جا تا ہےجیسا کہ ہم نے اسے ”جھوٹ کی آفت“ میں ذکر کر دیا ہے بلکہ کسی بھی باطل کلام پر تعریف کرنا ،اس کی تصدیق کرنا اور اس کی تائید میں سرہلانا جائز نہیں اگر ایسا کرے گا تو منافق ہو گا بلکہ اُسےباطل کلام سے روکناچاہئے،اگر اس پر قادر نہ ہو تو زبان سے خاموشی اختیار کرے اور اپنے دل سےاسے برا جانے۔
آفت نمبر18: تعریف کرنا
پہلی فصل: تعریف کرنے والے اور ممدوح میں موجود خرابیاں
بعض جگہوں میں تعریف کرنے کی مُمانَعَت ہے ،رہی مَذمت تو وہ غیبت اور برائی کرنا ہے اور اس کا حکم ہم ذکر کر چکے۔ تعریف چھ خرابیوں سے خالی نہیں ہوتی،چار خرابیوں کا شکار تعریف کرنے والا ہوتا ہے اور دو کا شکار وہ شخص ہوتا ہے جس کی تعریف کی جا ئے۔
تعریف کرنے والے کی خرابیاں:
﴿1﴾…کبھی وہ تعریف کرنے میں حد سے بڑھ جاتا ہے حتّٰی کہ جھوٹ بو ل دیتا ہے۔چنانچہ
حضرت سیِّدُنا خالد بن مَعْدان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں:جو شخص لوگوں کے سامنے حاکم یا کسی دوسرے شخص کی تعریف میں ایسی بات کہے جو اس میں نہ ہو تو بروز قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اسے اس حال میں اٹھائے گا کہ اس کی زبان لڑ کھڑا رہی ہوگی۔
﴿2﴾…کبھی تعریف کرنے میں ریاکاری بھی شامل ہوجاتی ہے کیونکہ وہ تعریف کرکے محبت کا اظہار کررہا ہوتا ہے حالانکہ اس کے دل میں نہ تومحبت ہو تی ہے اور نہ ہی وہ ان تمام باتوں کا اعتقاد رکھتا ہےجنہیں وہ کہہ رہا ہے تو اس طرح وہ ریا کار اور منافق ہوجا تا ہے۔