Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
484 - 1245
	یہ نفاق اس وقت ہے جب اسے حاکم کے پاس جانے اور اس کی تعریف کرنے کی حاجت نہ ہو، یونہی اگر وہ حاجت نہ ہونے کے باوجود حاکم کے پاس جائے اور جانے کے بعد تعریف نہ کرنے کی صورت میں خوف زدہ ہو تو بھی یہ نفاق ہے کیونکہ اس نے خود اپنے آپ کو اس عمل کا محتاج بنایا اگر وہ تھوڑے پر قناعت کرتا اور مال ومنصب کو چھوڑ دیتاتو اسے اس کے پاس جانے کی ضرورت پیش نہ آتی لیکن وہ مال ومنصب کی ضرورت کی وجہ سےاس کے پاس گیا اور اس کی تعریف کی لہٰذا وہ منافق ہے۔ حضور نبیّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے فرمان کا یہی معنی ہے۔ چنانچہ ارشاد نبوی ہے:حُبُّ الْمَالِ وَالْجَاہِ یُنْبِتَانِ النِّفَاقَ فِی الْقَلْبِ کَمَا یُنْبِتُ الْمَاءُ الْبَقْلَ یعنی مال وجاہ کی محبت دل میں نفاق کو ایسے اگاتی ہے جیسے پانی سبزی کو اگاتا ہے۔(1)
	کیونکہ مال وجاہ کی محبت حکام اور ان کے احوال کی  رعایت  کرنےاور دکھلاوے کا محتاج بنا دیتی ہے۔ بہرحال جب کسی ضرورت کی وجہ جانے پر مجبور ہو اور تعریف نہ کرنے کی صورت میں اسے ڈر ہو تو وہ معذور ہے کیونکہ شر سے بچنا جا ئز ہے ۔
	حضرت سیِّدُنا ابو درداء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں:ہم کچھ لوگوں کے سامنے( خوشی ومحبت کا اظہار کرتے ہوئے) ہنس دیتے ہیں لیکن ہمارے دل ان پر لعنت کررہے ہوتے ہیں۔
سب سے بُرا شخص:
	اُمُّ المؤمنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا بیان کرتی ہیں کہ ایک شخص نے سیِّدِعالَم، نُورِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے حاضرہونے کی اجازت طلب کی تو آپ نے فرمایا:اِسے اجازت دے دو یہ قبیلے کا بُرا شخص ہے۔ جب وہ آیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس سے نرم گفتگو فرمائی،پھرجب وہ چلا گیا تو میں نے عرض کی:یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ نے پہلے تو اس کے بارے میں کچھ کہا پھر اس سے نرم گفتگو کی؟ارشاد فرمایا:اے عائشہ! لوگوں میں سب سے برا شخص وہ ہے جس کے شر سے بچنے کے لئے اس کی عزت کی جائے۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…فيض القدير،۶/ ۲۷۲،تحت الحديث:۸۹۷۸ باختصار
2… بخاری،کتاب الادب،باب حسن الخلق والسخاء...الخ،۴/ ۱۰۸،حديث:۶۰۳۲