Brailvi Books

اِحیاء ُ الْعُلُوم مترجَم(جلد :3)
483 - 1245
دو رُخے پن کی تعریف:
سوال: اگر تم کہو کہ آدمی کس چیز کے سبب دو رُخاہوجاتا ہےاوراس کی تعریف کیا ہے؟
جواب: جب کوئی شخص دو دشمنوں کے پاس آئے اور ہر  ایک سے اچھی طرح پیش آئےاوراس ( یعنی اچھی طرح پیش آنے)میں سچا ہو تو وہ منافق اوردو رخا نہیں ہےکیو نکہ ایک شخص کی کبھی دو دشمنوں سے دوستی ہوتی ہے لیکن وہ دوستی کمزور ہوتی ہے پکی دوستی کی حد تک نہیں پہنچی ہوتی  اس لئے کہ اگر دوستی سچی ہوتی تو وہ دوست کے دشمن سے بھی دشمنی کا تقاضا کرتی جیسا کہ ہم”ہم نشینی اوربھائی چارے  کے آداب“میں یہ بات  ذکر کرچکے ہیں۔مگر جب کوئی دو شخصوں میں سے ہر ایک کی بات دوسرے تک پہنچائے تو وہ دورُ خا ہوگا اور یہ چغلی سے زیادہ برا ہےکیو نکہ آدمی جانبین میں سے صرف ایک کی بات پہنچانے کے سبب چغل خور ہو جاتا ہے تو جب وہ دونوں جانب کی بات پہنچائے گا تو چغل خور سے بھی بد تر ہو گا اور اگر وہ بات تو نہ پہنچائے لیکن ان دونوں میں سے ہر ایک کی نظر میں اپنے مخالف کے ساتھ دشمنی کو بھڑکادےتب بھی وہ دورُخا ہے اور ایسے ہی جب وہ دونوں میں سے ہر ایک سے یہ وعدہ کرے کہ وہ دوسرے کے خلاف اس کی مدد کرے گا،یوں ہی اس دشمنی رکھنے میں ہر ایک کی تعریف کرے،اسی طرح جب ان میں سے کوئی اس کے پاس آئے تو اس کی تعریف کرے اور جب وہ چلا جا ئے تو اس کی مذمت کرے تو ان صورتوں میں بھی وہ دورُخا ہوگا۔
	اسے چاہئے کہ خاموش رہے یا دونوں دشمنوں سے جو حق پر ہو اس کی تعریف کرے اور یہ تعریف اس کی غیر موجودگی،موجودگی اور اس کے دشمن کے سامنے بھی ہو نی چاہئےتو یہ اس کے لئے نِفاق سے چُھٹکارے کی  راہ ہے۔
مال وجاہ کی محبت دل میں نفاق اُگاتی ہے:
	حضرت سیِّدُنا عبداللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے پوچھا گیا:ہم اپنےحُکّام کے پاس جاتے ہیں تو ایک بات کہتے ہیں لیکن جب ان کے پاس سے نکلتے ہیں تو دوسری بات کہتے ہیں تو اس کا کیا حکم ہے؟ارشاد فرمایا:ہم اسے زمانہ ٔ رسول میں نفاق شمار کرتے تھے۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…المعجم الکبير،۱۲/ ۴۲۱،حديث:۱۳۵۴۸